نئی دہلی، :فارما کمپنی ایسٹرازینکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے ذریعہ تیار کی گئی کورونا ویکسین کو لے کر یوروپ میں کچھ سنگین سائیڈ افیکٹ نظر آرہے ہیں ۔ کچھ معاملات میں بلڈ کلاوٹنگ کی پریشانی دیکھے جانے کے بعد تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔ ان تشویشات کے پیش نظر ہندوستان بھی اب اس ویکیسن کا جائزہ لے گا ۔ آکسفورڈ ۔ ایسٹرازینکا کے اس پروجیکٹ میں ہندوستان کی دوا ساز کمپنی سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا بھی پارٹنر رہی ہے ۔ سیرم انسٹی ٹیوٹ اس ویکسین کو کووی شیلڈ کے نام سے بیچ رہا ہے ۔ور طلب ہے کہ یوروپ کے کئی ممالک میں بلڈ کلاؤٹنگ کے ڈر کی وجہ سے کووی شیلڈ کا ویکسی نیشن روک دیا گیا ہے ۔ یوروپی ممالک ڈنمارک ، ناروے اور آئس لینڈ نے اپنے یہاں آکسفورڈ ایسٹرازینکا ویکسین سے ویکسی نیشن پر فوری روک لگادی ہے ۔
نیشنل ٹاسک ٹیم کے رکن نے کیا کہا ؟
دی منٹ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق کورونا ویکسین کیلئے ہندوستان کی نیشنل ٹاسک فورس کے رکن این کے اروڑہ نے کہا کہ ہم مخالف حالات والے واقعات پر دھیان دے رہے ہیں ۔ خاص طور پر ویکسین کے بعد موت اور ہسپتال میں بھرتی کرائے جانے جیسے واقعات پر ۔ ہم اس بارے میں ضرور مطلع کریں گے اگر کوئی سنگین بات نظر آئے گی ۔حالانکہ اروڑہ نے یہ بھی کہا کہ فوری طور پر تشویش کی کوئی بات نظر نہیں آرہی ہے ۔ کیونکہ ملک میں سنگین سائیڈ افیکٹ کے انتہائی کم معاملات سامنے آئے ہیں ۔ اب ہم بلڈ کلاؤٹنگ کی پریشانیوں پر بھی نگاہ بنائے ہوئے ہیں ۔
جمعہ کو 20 لاکھ لوگوں کو دی گئی ویکسیناس سے پہلے وزارت صحت نے ہفتہ کو بتایا کہ ملک میں کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ایک دن پہلے یعنی جمعہ کو 20 لاکھ سے زیادہ ڈوز لوگوں کو دی گئی ہیں ۔ ایک دن میں ٹیکے کی یہ سب سے زیادہ ڈوز ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں