حکومت کے فیصلے سے ناراض اداکارہ نے ایوارڈ تقریب میں اسٹیج پر ہی اتار دیئے اپنے سارے کپڑے - شیر پنجاب اردو نیوز About us| Contact US| Privacy Policy| Disclaimer| Terms And Conditions| Sitemap|

Translate

14 مارچ، 2021

حکومت کے فیصلے سے ناراض اداکارہ نے ایوارڈ تقریب میں اسٹیج پر ہی اتار دیئے اپنے سارے کپڑے



 پیرس:  پوری دنیا میں اپنا احتجاج درج کرانے کے لئے لوگ طرح طرح کے راستے اپناتے ہیں، لیکن فرانس  کی ایک اداکارہ نے  احتجاج کا جو راستہ اپنایا اس سے سبھی حیران رہ گئے۔ فرانس کی 57 سالہ اداکارہ کورین ماسرو  نے حکومت کے ایک فیصلے کی مخالفت کرنے کے لئے ایوارڈ تقریب میں اسٹیج پر ہی اپنے سارے کپڑے اتار دیئے۔ اس ایوارڈ تقریب کا نام سیزر ایوارڈ ہے۔ اسے فرانس میں آسکر کے برابر سمجھا جاتا ہے۔

دراصل فرانس میں کووڈ-19 وبا  کے سبب سنیما گھر اور تھیئیٹر کو حکومت نے گزشتہ تین ماہ سے بند کر رکھا ہے۔ ایسے میں کئی آرٹسٹ اور فنکار پریشان ہیں۔ اس درمیان فرانس میں سوشل ڈیسٹنسنگ کے ذریعہ سیزر ایوارڈ تقریب منعقد کی گئی۔ اس میں ماسرو کو بیسٹ کاسٹیوم کا ایوارڈ دینے کے لئے مدعو کیا گیا تھا۔ اس کے لئے ماسرو فنکشن میں پہنچیں۔ وہ گدھے کے کاسٹیوم کی پوشاک پہن کر اسٹیج پر گئیں۔ ا کے نیچے انہوں نے خون سے سنی ہوئی ایک ڈریس پہنی تھی۔

ایوارڈ تقریب کے دوران ہی انہوں نے اسٹیج پر پہنچنے کے بعد اپنے سارے کپڑے اتار دیئے۔ ان کی اس حرکت سے وہاں موجود سبھی لوگ حیران رہ گئے۔ ماسرو نے اپنے جسم پر حکومت کے لئے ایک پیغام بھی لکھا ہوا تھا۔ انہوں نے لکھا، ’کلچر نہیں تو فیوچر نہیں‘ (تہذیب نہیں تو مستقبل نہیں)۔

ان کی پیٹھ پر ایک پیغام فرانس کے وزیر اعظم جین کاسٹیکس کے لئے بھی لکھا تھا۔ ماسرو کی پیٹھ پر لکھا تھا، ’ہمیں ہمارا فن لوٹا دو، جین‘۔ اسی تقریب میں پہنچے کچھ دیگر فنکاروں نے بھی حکومت سے ایسی ہی اپیل کی تھی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، فرانس میں کووڈ-19 وبا کے سبب گزشتہ سال دسمبر سے ہی سنیما ہال بند ہیں۔

دسمبر میں بھی فرانس کے سینکڑوں فنکاروں، فلم ڈائریکٹرس، میوزیشین سمیت انڈسٹری سے منسلک دیگر لوگوں نے پیرس میں حکومت کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ ان سبھی کا مطالبہ تھا کہ جس طرح سے دوسرے مقام پر پابندی ہٹائی گئی ہیں، ویسے ہی فنون مراکز کے اوپر سے پابندی ہٹائی جانی چاہئے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں