یہ مافیا نئی قبر کے لیے جگہ بنانے کے لیے پرانی قبر کو توڑ کر اس کی جگہ نئی قبر بنا دیتے ہیں۔ پاکستان ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی(پی ای سی ایچ ایس) کا قبرستان گزشتہ پانچ سالوں سے سرکاری طور پر بھرا ہوا ہیے جو مافیا پرانی قبر کو توڑ کر یا خالی کر کے پیسے لے کر یہاں پرانی قبریں توڑ کر اس کی جگہ نئی قبریں بناتے ہی ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں میت کو دفنانے کے لیے کسی قبرستان میں جگہ نہیں ہے۔ اس علاقے میں تدفین کے لیے حکومتی اخراجات تقریبا 7,900 روپے ($44) ہیں، لیکن دو مقامی لوگوں نے بتایا کہ انہیں گزشتہ سال اپنے رشتہ داروںکی تدفین کے لیے 55,000 اور 175,000 ادا کرنے پڑے۔ پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے جہاں 220 ملین لوگ رہتے ہیں اور ہر سال 4 ملین مزید شامل ہوتے ہیں۔
بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ بہت سے لوگ پاکستان کے دیہاتوں سے پاکستان کے شہروں کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔ ایک شخص نے بتایا کہ جب وہ 1953 میں یہاں آئے تو پی ای سی ایچ ایس کا قبرستان خالی ہوا کرتا تھا لیکن جلد ہی جگہ کی کمی ہو گئی۔ اسلم نے بتایا کہ ان کے خاندان نے دادا کی تدفین کے لیے 50 روپے دیے تھے لیکن 2020 میں ایک رشتہ دار کو تدفین کے لیے 33 ہزار روپے ادا کرنے پڑے۔
یہی حال پاکستان کے راولپنڈی، پشاور اور لاہور کا ہے جہاں یہ قبریں کھودنے والے مافیا کے ایک اہلکار نے بتایا کہ کچھ لوگوں کے خاندان اپنے پچھلے خاندان کے پاس ہی قبر کی مانگ کرتے ہیں اوربھاری قیمت ادا کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ تو ایک نے کہا کہ وہ زیادہ تر ایسی قبروں کا انتخاب کرتے ہیں جہاں باقاعدگی سے کوئی نہیں آتا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں