دریائےڈینیپر تک پہنچی روسی فوج، یوکرین نے بھی جارحانہ رویہ کیا اختیار، لوہانسک میں روسی ہتھیاروں کے ڈپو کو بھی کیا تباہ - شیر پنجاب اردو نیوز About us| Contact US| Privacy Policy| Disclaimer| Terms And Conditions| Sitemap|

Translate

12 اپریل، 2022

دریائےڈینیپر تک پہنچی روسی فوج، یوکرین نے بھی جارحانہ رویہ کیا اختیار، لوہانسک میں روسی ہتھیاروں کے ڈپو کو بھی کیا تباہ

کیف: روس اور یوکرین کے درمیان جنگ 47ویں روز بھی جاری ہے۔ اس دوران روسی فوج نے یوکرین کے کئی شہروں کو تباہ کیا لیکن وہ دارالحکومت کیف کو فتح کرنے میں ناکام رہی۔ پیر کے روز ایک بڑا روسی فوجی قافلہ ایزیوم شہر اور دریائے نیپر کے ارد گرد دیکھا گیا۔

 دوسری جانب یوکرین نے بھی جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے بشتانکا میں روس کے کروز میزائلوں سے لدے ٹرک پر حملہ کیا۔ یوکرین کی فوج نے لوہانسک میں روسی ہتھیاروں کے ڈپو کو بھی تباہ کر دیا۔

اپ ڈیٹ

یوکرین کے بندرگاہی شہر ماریوپول کے میئر نے پیر کو دعویٰ کیا کہ شہر کے محاصرے کے دوران روسی افواج کے حملوں میں 10 ہزار سے زائد شہری مارے گئے۔

میئر  وی بائیوشینکو نے کہا کہ روسی حملے کی وجہ سے ماریوپول میں مرنے والوں کی تعداد 20,000 تک پہنچ سکتی ہے کیونکہ سڑکوں پر کفن پوش لاشیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ 12.8 کلومیٹر طویل روسی قافلہ ایزیوم شہر کی جانب رواں دواں ہے۔ اس کی سیٹلائٹ تصویر بھی منظر عام پر آگئی ہے۔

نیکسٹا ٹی وی کی ویب سائٹ کے مطابق امریکی ماہرین کو خدشہ ہے کہ روس نے دریائے نیپر کے گرد ایک بڑے حملے کا منصوبہ بنایا ہے۔ حالیہ سیٹلائٹ تصاویر نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے۔

خارکیو شہر کے جنوب مشرق میں واقع شہر ایزوم میں یوکرین کی فوج نے اب تک روس کو Tos-1A Soltsepyok جیسی طاقتور توپوں سے سخت  ٹکر دی ہے لیکن اب یہاں روسی فوج کے ایک بڑے قافلے کی آمد کے بعد صورتحال بدل سکتی ہے۔

روس نے کہا ہے کہ اس نے ایک نامعلوم یورپی ملک کی طرف سے یوکرین کو فراہم کیے گئے ایس-300 طیارہ شکن میزائل سسٹم کو اپنے کروز میزائلوں سے تباہ کر دیا ہے۔

روسی وزارت دفاع نے اتوار کے روز کہا کہ روس نے یوکرین کے شہرنیپرو کے مضافات میں چھپائے گئے چار ایس-300 کے خلاف Kalibr Krauss میزائل داغا۔ روس نے دعوی کیا کہ حملے میں 25 یوکرائنی فوجی مارے گئے۔

روس نےکیا نیا فوجی کمانڈ مقرر 

روس نے یوکرین جنگ کے لیے ایک نیا فوجی کمانڈر مقرر کیا ہے اور اب وہ ملک کے مشرقی حصے میں حملوں پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ امریکی اہلکار نے شناخت کو صیغہ راز میں رکھتے ہوئے کہا کہ روس نے تجربہ کار فوجی افسروں میں سے ایک جنرل الیگزینڈر ڈوورنیکوف (60) کو نیا کمانڈر مقرر کیا ہے۔ ڈوورنیکوف کے پاس شام اور دیگر جنگی مقامات پر شہریوں کے خلاف بربریت کا ریکارڈ ہے۔

 ہارنہیں مانیں گے: زیلنسکی 

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ ان کی فوج ہمت نہیں ہارے گی۔ انہوں نے امریکہ سمیت مغربی ممالک سے مزید مدد کی درخواست کی۔ انہوں نے اپنے ملک کو خبردار کیا کہ آنے والا ہفتہ جنگ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ روسی افواج ہمارے ملک کے مشرق میں مزید بڑی کارروائیاں کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن آئے گا جب روس کو سب کچھ قبول کرنا پڑے گا۔ اسے سچ ماننا ہی ہو گا۔

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں