سیلون پیٹرولیم کارپوریشن (سی پی سی) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ موٹر سائیکل اور دیگر دو پہیہ گاڑیاں ایک وقت میں ایک پیٹرول پمپ پر صرف ایک ہزار روپے کا ایندھن بھر سکتے ہیں۔ اسی طرح تھری وہیلر ایک وقت میں 1500 روپے، کار، جیپ اور وین 5000 روپے تک کا ایندھن خرید سکتے ہیں۔ تاہم بسوں، لاریوں اور تجارتی گاڑیوں کو راشن سسٹم سے باہر رکھا گیا ہے۔ غور طلب ہے کہ پٹرول پمپ کے سامنے لمبی قطاروں کے بعد لوگوں میں غصہ دیکھا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سری لنکن روپے کی قدر میں کمی کے باعث گھروں میں 12 گھنٹے بجلی کی کٹوتی اور دیگر ضروری اشیا کی بھی شدید قلت ہے۔
دریں اثنا، دارالحکومت کولمبو کے گالے فیس میں جاری احتجاج جمعہ کو ساتویں روز میں داخل ہو گیا اور ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید نوجوان اس میں شامل ہو رہے ہیں۔ مظاہرین ملک کے معاشی بحران سے نمٹنے میں مبینہ طور پر نااہلی پر صدر گوتابایا راجا پاکسے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے صدر اور وزیراعظم کے استعفے تک حکومت سے مذاکرات سے بھی انکار کر دیا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں