تیستا کے بارے تحقیقات کی ضرورت ہے: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے 24 جون کو گجرات فسادات پر ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے خلاف دائر عرضی کو خارج کر دیا تھا۔ یہ درخواست ذکیہ جعفری نے دائر کی تھی۔ عرضی کو خارج کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے درخواست رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ تیستا سیتلواڑ سے مزید تفتیش کی ضرورت ہے، کیونکہ تیستا خفیہ طور پر اس معاملے میں ذکیہ جعفری کے جذبات کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہی تھی۔
تیستا نے اپنے فائدے کے لیے چیزیں گھڑ لیں
عدالت نے کہا تھا کہ تیستا سیتلواڑ اسی لئے اس کیس میں مسلسل داخل ہوتی رہیں کیونکہ ذکیہ احسن جعفری اس پورے معاملے میں اصل ملزم ہیں۔ اس کے مطابق تیستا اس کیس میں ان کی مدد کرنے کے بہانے ان کو کنٹرول کر رہی تھی جب کہ وہ اس کیس میں نہ صرف دلچسپی لے رہی تھی بلکہ اپنے مفاد کی ضرورت سے انتقام کا جذبہ رکھتے ہوئے اپنی چیزیں بھی گھڑ رہی تھی۔ . یہ فیصلہ جسٹس اے ایم کھانولکر، جسٹس دنیش مہیشوری اور جسٹس سی ٹی روی کمار کی بنچ نے سنایا تھا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں