اس کا ویڈیو اب کافی وائرل ہو رہا ہے۔وائرل ویڈیو میں پوتن کو کمرے میں داخل ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے جہاں انہوں نے ترک صدر ایردوان سے باضابطہ ملاقات ہونی تھی لیکن ان کا استقبال کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ کمرے میں دونوں ممالک کے صدور کے لیے کرسیاں رکھی ہوئی تھیں۔ پہلے پوتن نے تھوڑا سا ٹہلتے ہیں، پھر اپنی کرسی کے سامنے کھڑے ہو کر ایردوان کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔50
سیکنڈ تک پوتن کافی بے چین نظر آئے۔ وہ ہاتھوں کو باندھ کر کھڑے ہوگئے۔ اس دوران وہ کبھی کرسیوں کی طرف دیکھ رہے تھے اور کبھی فرش کی طرف۔ اس دوران پوتن کو منہ بناتے بھی دیکھا گیا۔ اسی وقت، جیسے ہی اردگان کمرے میں داخل ہوئے، پوتن نے اپنے ہاتھ پھیلا کر سکون کی سانس لی۔
اردگان نے پوٹن کی طرف مسکراتے ہوئے اور گرمجوشی سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا، ہیلو، کیسے ہیںآپ اچھے؟ یہاں آپ کو بتا دیں کہ پوٹن عالمی رہنماؤں کو سرکاری ملاقاتوں سے پہلے انتظار کرانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے کئی مواقع پر بعض لیڈروں کو کئی گھنٹے انتظار کرایا ہے۔
مشرق وسطی کی میڈیا آرگنائزیشن دی نیشنل نیوز کے سینئر نمائندے جوائس کریم نے ٹویٹ کیا کہ ایردوان کے لیے یہ میٹھی واپسی تھی۔ 2020 میں پیوٹن نے انہیں دو منٹ تک انتظار کروا کر ذلیل کیا تھا۔ ترک میڈیا کو خدشہ ہے کہ یہ 2020 میں ماسکو میں ہونے والے واقعے کا بدلہ ہوسکتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں