مالیرکوٹلہ: مالیر کوٹلہ شہر میں آج صبح ایک بڑا واقعہ ہونے سے بال بال بچ گیا جب لوگوں نے اپنی چوکسی اور ہوشیاری سے قصبے کا ماحول خراب کرنے کی مبینہ سازش کو ناکام بناتے ہوئے قرآن پاک کے ساتھ بھاگتے ہوئے ایک شخص کو قابو کرلیا اور پولیس کے حوالے کر دیا ۔
تھانہ صدر احمد گڑھ کے تحت گائوں خان پور کے رہائشی محمد جمیل ولد باجد علی جو کہ مقامی سٹار امپیکٹ بوٹس کمپنی میں کام کرتا ہے پولیس کو دیئے بیانات میں بتایا گیا ہے کہ آج صبح ساڑھے سات بجے کے قریب جب وہ سرود روڈ پر واقع مسجد میں اشراق کی نماز پڑھنے کے لئے گیا تو ایک نامعلوم شخص جس کی عمر تقریبا 55 سال تھی جو پہلے سے مسجد کے اندر موجود جھاڑو لگا رہا تھا ۔
میں نے مسجد کے اندر جا کر اشراق کی نماز پڑھنا شروع کی تو وہ شخص بھی میرے پیچھے مسجد کے اندر آیا اس نے پہلے محراب کے مقام پر سجدہ کیا پھر مسجد کے اس حصے کی طرف گیا جہاں قرآن پاک رکھے ہوتے ہیں۔ مذکورہ شخص نے قرآن شریف ہاتھ میں لیا اور چادر میں لپیٹ کرمسجد سے باہر نکل گیا۔ جمیل نے بتایا کہ نماز سے فارغ ہو کر میں فورا اس کے پیچھے مسجد سے باہر نکلا اور ریت بجری کی دکان کے سامنے کھڑے سیکا نامی لڑکے کو آواز دی اور کہا کہ یہ نامعلوم شخص اپنی چادر میں قرآن شریف چھپا کر لے جا رہاہے۔
جسے فوری طور پر آس پاس کے لوگوں کی مدد سے قابو کیا گیا اور کپڑے میں چھپے ہوئے قرآن شریف کو باہر نکالا گیا اور قرآن شریف کو اچھی طرح صاف کرنے کے بعد مذہبی آداب کے مطابق پورے احترام کے ساتھ دوبارہ مسجد کے اندر اسی جگہ رکھ دیا گیا۔
اور پولیس کو اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی، موقع پر موجود لوگوں کی موجودگی میں پولیس نے نامعلوم شخص کا نام پوچھا تو اس نے اپنا نام جگتار سنگھ عرف طوطی ولد ارجن سنگھ بتایا، ضلع رائے کوٹ کے نواحی گاؤں سکھانہ کے رہائشی لدھیانہ نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں بات کرتے ہوئے وہاں موجود لوگوں نے بتایا کہ مذکورہ شخص نے بری نیت سے ہمارے مذہبی مقدس قرآن شریف کو اٹھایا اور اپنے قبضے میں ایک گندی چادر میں لپیٹ کرجہاںقرآن پاک کی بے ادبی کی وہیں ہمارے مذہبی جذبات کو بھی ٹھیس پہنچائی گئی ہے۔ اس شخص کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
محمد جمیل کے بیانات پر پولیس نے مذکورہ شخص جگتار سنگھ عرف طوطی کے خلاف مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں دفعہ 295-A، 153-A IPC کے تحت کیس درج کر لیا ہے۔ مقدمہ درج کر کے مزید کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔حالانکہ انہوں نے موقع پر ہی اس بارے میں کچھ نہیں بتایا کہ اس شخص کا ان وارداتوں کو انجام دینے کا کیا مقصد تھا تاہم پولیس اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ اس شخص نے ایسا کیوں کیا اور کہاں لے جانا تھا۔ قرآن شریف یہاں سے یا آگے کیا کرنا تھا۔پولیس اس بات کی بھی تفتیش کر رہی ہے کہ آیا اس شخص نے یہ واردات کسی اور کے کہنے پر کی ہے۔پولیس تمام پہلوؤں سے تفتیش کر رہی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں