دونوں رہنماؤں کے درمیان جمعرات کو فون پر دو گھنٹے سے زیادہ وقت تک چلی بات چیت میں مسٹر بائیڈن نے کہا کہ امریکہ تائیوان کی صورتحال کو تبدیل کرنے کے لئے کسی بھی ایک طرفہ کارروائی کی سختی سے مخالفت کرے گا اور کہا کہ تائیوان کو لے کر امریکہ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
ادھر مسٹر جن پنگ نے صدر بائیڈن سے کہا کہ وہ ون چائنا قانون کی پاسداری کریں اور انہیں خبردار کیا کہ جو بھی آگ سے کھیلے گا وہ جل کر راکھ ہو جائے گا۔اس دوران دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے ساتھ آمنے سامنے میٹنگ کرنے کے امکان پر بھی تبادلہ خیال کیا ۔
واضح ر ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کے دورہ تائیوان کی افواہ کے باعث اس معاملے پرتناؤ بڑھ گیا ہے۔محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ محترمہ پیلوسی نے کسی سفر کا اعلان نہیں کیا ہے۔ لیکن چین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ موجودہ وقت میں دورے پر جاتی ہیں تو نتائج خطرناک ہوں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں