کولمبو: سری لنکا کے قائم مقام صدر رانیل وکرما سنگھے نے 20 جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخابات سے ٹھیک پہلے ملک میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا۔ ملک میں سیاسی بحران اور افراتفری کے درمیان گوٹابایا راجا پاکسے نے صدارت سے استعفی دے دیا تھا اور تب سے یہ عہدہ خالی ہے۔
17 جولائی سوموارکو ایک حکومتی حکمنامہ جاری کیا گیا جس میں ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا،۔ ملک کی 225 رکنی پارلیمنٹ میں دو دن بعد صدارتی انتخابات ہونے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ پبلک سیفٹی آرڈیننس کے پارٹ II کے تحت صدر کو ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
آرڈیننس کے اس حصے میں لکھاہے اگر صدر کا خیال ہے کہ پولیس صورتحال کو سنبھالنے میں ناکام رہی ہے، تو وہ مسلح افواج سے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے حکم جاری کر سکتے ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ سیکورٹی فورسز کو چھاپہ مارنے، گرفتار کرنے، ضبط کرنے، اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کو ہٹانے اور کسی بھی شخص کی رہائش گاہ میں داخل ہونے اور تلاشی لینے کا حق ہے۔ راجا پاکسے اس وقت سنگاپور میں ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں