واشنگٹن: امریکہ کے ایک اعلیٰ قانون ساز نے جموں و کشمیر اور دیگر علاقوں میں لائن آف کنٹرول پر سیز فائر معاہدوں کی سختی سے پابندی پر عمل کرنے کے ہندوستان اور پاکستان کی افواج کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ رکن پارلیمنٹ نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ یہ تنا ؤکو کم کرنے کی طرف پہلا قدم ثابت ہوگا۔ جمعرات کو وائٹ ہاؤس نے کہا تھاکہ یہ اقدام جنوبی ایشیا میں زیادہ سے زیادہ امن اور استحکام کی سمت ایک مثبت قدم ہے۔
وفد میں امور خارجہ سے متعلق ایک اہم کمیٹی کے چیئرمین اور رکن پارلیمنٹ ، گریگوری میکس نے کہا ،میں ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں کے مشترکہ سرحد پر جنگ بندی سے متعلق تمام معاہدوں کی سختی سے پابندی کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کرتا ہوں۔مجھے امید ہے کہ یہ تنا ؤکو کم کرنے کی طرف پہلا قدم ثابت ہوتا ہے اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان نے جمعرات کے روز لائن آف کنٹرول اور دیگر علاقوں میں سیز فائر معاہدوں پر سختی سے عمل کرنے پر اتفاق کیا اور اس ضمن میں ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا۔
ہندو امریکن فاؤنڈیشن نے بھی اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے اور پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے بین الاقوامی وعدوں کا احترام کرے ، دہشت گرد تنظیموں کی مالی اعانت اور امداد بند کرے اور سرحد پار سے ہونے والے دہشت گردانہ حملے ہندوستان پر بند کرے۔ یہ جنوبی ایشیا میں زیادہ سے زیادہ امن اور استحکام کی سمت ایک مثبت اقدام ہے۔جمعرات کو وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری جین ساکی نے بھی کہا کہ بائیڈن انتظامیہ پاکستان سمیت خطے کے رہنماؤں اور عہدیداروں کے ساتھ گہری شراکت میں ہے۔
ساکی نے کہا کہ امریکہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین مشترکہ بیان کا خیرمقدم کرتا ہے کہ دونوں ممالک نے 25 فروری سے شروع ہونے والے اس لائن آف کنٹرول کے ساتھ جنگ بندی پر سختی سے عمل پیرا رہنے پر اتفاق کیا ہے۔۔ ساکی نے جب مشترکہ بیان کے بارے میں پوچھا گیا کہ ہندوستان اور پاکستان نے سختی سے اتفاق کیا ہے کہ جموں و کشمیر اور دیگر علاقوں میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ جنگ بندی سے متعلق تمام معاہدوں پر عمل کرنا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں