بیرون ممالک ایکٹ کی دفعہ 3 (2) ای کے تحت یہ ’ہولڈنگ سینٹر‘ بنایا گیا ہے۔ ایک ہولڈنگ سینٹر میں کم از کم 250 لوگ رہ سکتے ہیں۔ ایک سینئر افسر کے مطابق، ان سب کے پاس امیگرینٹ پاسپورٹ ایکٹ کے سیکشن (3) کے مطابق ضروری پاسپورٹ نہیں تھے۔ لہٰذا ایسے مہاجرین کی شناخت کرنے کا عمل جاری ہے۔
افسران نے کہا کہ انہیں ہولڈنگ سینٹر بھیجنے کے بعد ان سب کی قومیت کو لے کر ویریفکیشن کیا جائے گا، جس کے بعد غیر قانونی طریقے سے رہ رہے لوگوں کو ہٹایا جائے گا۔ افسران نے بتایا کہ سخت سیکورٹی انتظامات کے درمیان ایم اے ایم اسٹیڈیم میں میانمار سے آئے روہنگیا مسلمانوں کا ویریفکیشن کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ عمل کے تحت ان کی بایومیٹرک اطلاعات، رہنے کا مقام وغیرہ سمیت دیگر اطلاعات جمع کی گئیں۔ میانمار کے شہری عبدالحنان نے بتایا، ’کووڈ-19 کی جانچ کے بعد ہم نے ایک فارم بھرا۔ ہمارے فنگر پرنٹ لئے گئے‘۔
6 ہزار سے زیادہ روہنگیا
کچھ سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں نے مرکزی حکومت سے گزارش کی ہے کہ وہ روہنگیا اور بنگلہ دیشیوں کو فوراً ان کے ملک واپس بھیجنے کی سمت میں قدم اٹھائیں۔ ان کا الزام ہے کہ ان دونوں سے ملک کو خطرہ ہے۔ روہنگیا مسلمانوں اور بنگلہ دیشی شہریوں سمیت 13,700 سے زیادہ غیر ملکی شہری جموں اور سانبا اضلاع میں بسے ہوئے ہیں۔ حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق، 2008 سے 2016 کے درمیان ان کی آبادی میں 6,000 سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں