سری نگر: وادی کشمیر میں خوشگوار موسم کے بیچ پیر کے روز قریب ایک برس بعد نویں سے بارہویں جماعت کے طلبا کے لئے سکول کھل گئے اور درس وتدرس کا باقاعدہ عمل بحال ہوگیا وادی کے کالجوں میں گذشتے ہفتے ہی درس وتدریس کا عمل شروع ہوا ہے۔ سرکاری حکمنامے کے مطابق وادی میں آٹھویں جماعت کے طلبا کے لئے سکول 8 مارچ سے کھلیں گے تاہم اساتذہ کو یکم مارچ سے ہی سکولوں میں حاضر ہونے کو کہا گیا ہے۔
بتادیں کہ وادی میں کم و بیش دو برس کے بعد تعلیمی سرگرمیاں باقاعدگی سے شروع ہو رہی ہیں کیونکہ کورونا لاک ڈاؤن سے قبل مرکزی حکومت کے پانچ اگست 2019 کے فیصلوں کے بعد وادی کشمیر میں پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر باقی ماندہ سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی سرگرمیاں بھی معطل ہوگئی تھیں۔اگرچہ سال گذشتہ ماہ مارچ میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہونے لگی تھیں لیکن کورونا لاک ڈان کی وجہ سے ایک بار پھر تعلیمی ادارے بند ہوگئے تھے اور حکام نے بعد میں آف لائن کلاسز کے ذریعے مشعل علم کو فروزاں رکھا تھا۔
حکام نے احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونے کے بعد اگرچہ سالانہ انتحانات کا بحسن خوبی انعقاد عمل میں لایا لیکن امتحانات ختم ہونے کے بعد ہی سرمائی تعطیلات کے اعلان کے پیش نظر تعلیمی ادارے پھر بند ہوئے۔یو این آئی کے ایک نمائندے نے پیر کی صبح سری نگر کے بعض سکولوں کا دورہ کرنے کے بعد بتایا کہ سکولوں میں ہر سوخوشی کا سماں تھا جیسے ایک خزاں رسیدہ باغ میں بہار نو کی فضا قائم ہوئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ جہاں اساتذہ کے چہرے ہشاش بشاش اور خوش و خرم نظر آ رہے تھے وہیں طلبا چہرے بھی خوشی و مسرت سے کھل رہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ سکولوں میں کورونا گائیڈ لائنز کا خاص خیال رکھا گیا تھا اور کلاس روموں میں بچوں کے درمیان ضروری دوری رکھی گئی تھی۔موصوف نے کہا کہ ایس ایس آر بی کے امتحانات کے پیش نظر کئی سکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال نہیں ہوسکیں۔
ایک طالب علم نے کہا: ہم بہت ہی خوش ہیں کہ سکول کھل گئے ہیں جس سے ہم نہ صرف اپنے اساتذہ کے سامنے بیٹھ کر پڑھ سکیں گے بلکہ اپنے دوستوں کے ساتھ بھی مل پائیں گے اور اپنے تعلیمی سرگرمیوں کے بارے میں بات چیت کر سکیں گے۔فردوس احمد نامی استاد نے بتایا کہ ہم اساتذہ کا اس دن کے لئے دل بے قرار تھا کیونکہ طلبا کے بغیر سکول ایک ویرانے کا نظارہ پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایک استاد کو بھی تب تک سکون میسر نہیں ہوتا ہے جب تلک نہ وہ اپنے طلبا کو رزق علم فراہم کرتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ صوبہ جموں میں یکم فروری سے ہی نویں سے بارہویں جماعت تک سکول کھل گئے تھے جبکہ پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے لئے سکول ایک ہفتہ قبل کھول دئے گئے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں