بنگال میں پیر زادہ کے آئی ایس ایف سے اتحاد پر کانگرس میں اختلاف، آنند شرما نے اٹھائے سوال - شیر پنجاب اردو نیوز About us| Contact US| Privacy Policy| Disclaimer| Terms And Conditions| Sitemap|

Translate

2 مارچ، 2021

بنگال میں پیر زادہ کے آئی ایس ایف سے اتحاد پر کانگرس میں اختلاف، آنند شرما نے اٹھائے سوال

 


نئی دہلی: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے لئے کانگرس نے لیفٹ کے ساتھ حال ہی میں نو تشکیل شدہ آئی ایس ایف کے ساتھ بھی اتحاد کیا ہے، لیکن غلام نبی آزاد کے ساتھ کانگرس کے باغی لیڈروں کے گروپ کا اہم چہرہ آنند شرما نے اس اتحاد کو پارٹی کے بنیادی نظریہ، گاندھی واد اور نہرو وادی سیکولرازم کے خلاف بتایا ہے۔ راجیہ سبھا میں کانگرس کے سینئر لیڈر آنند شرما نے ٹویٹ کرکے کہا، آئی ایس ایف اور ایسی دیگر جماعتوں کے ساتھ کانگرس کا اتحاد پارٹی کے بنیادی نظریہ، گاندھی واد اور نہرو وادی سیکولرازم کے خلاف ہے، جو کانگرس پارٹی کی آتما ہے۔ ان موضوعات پرکانگرس ورکنگ کمیٹی میں غوروخوض ہونا چاہئے تھا۔ انہوں نے مزید لکھا، فرقہ پرستی کے خلاف لڑائی میں کانگرس منتخب نہیں ہوسکتی ہے۔ ہمیں فرقہ واریت کی ہر شکل سے لڑنا ہے۔ مغربی بنگال پردیش کانگرس صدر کی موجودگی اور حمایت شرمناک ہے، انہیں اپنا موقف واضح کرنا چاہے

آنند شرما پر ادھیر رنجن چودھری کا پلٹ وار

پیرزادہ کے ساتھ اتحاد پر آنند شرما کے ذریعہ سوال اٹھائے جانے پر بنگال کانگرس صدر ادھیر رنجن چودھری نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دہلی میں پارٹی لیڈر شپ کے دستخط کے بغیر کوئی بھی فیصلہ ذاتی طور پر نہیں لیا۔ اے این آئی سے ادھیر رنجن نے کہا، ہم ایک ریاست کے انچارج ہیں اور ذاتی طور پر کوئی فیصلہ نہیں لیتے ہیں۔ بنگال میں کانگرس کی لڑائی ممتا بنرجی اور بی جے پی کے خلاف ہے، یہاں کانگرس کو لیفٹ کا ساتھ ملا ہے، جبکہ ممتا بنرجی کو کانگرس - لیفٹ اتحاد کے ساتھ بی جے پی اور دیگر پارٹیوں سے بھی مقابلہ کرنا ہے۔

بی جے پی نے ممتا بنرجی کے خلاف جارحانہ مہم چھیڑ رکھی ہے۔ حالانکہ کیرل میں کانگرس اور لیفٹ کے درمیان چھتیس کا آںکڑا ہے۔ ادھیر رنجن چودھری سمیت بنگال کانگرس کے لیڈروں نے مولانا عباس صدیقی کے ساتھ اتحاد کو لے کر اپنی تشویش کو پارٹی ہائی کمان کے سامنے رکھا تھا، لیکن اعلی قیادت نے اتحاد کو ہری جھنڈی دے دی۔

متنازعہ بیانات دینے کا لگتا رہا ہے الزام

پیر زادہ عباس صدیقی کو بنگال میں ان کے چاہنے والے بھائی جان کہہ کر بلاتے ہیں، لیکن ان کی شناخت متنازعہ بیانات دینے کے لئے ہوتی رہی ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے اپنے مذہبی پروگرام میں خطاب سے متعلق عباس صدیقی کو متنازعہ بتایا جاتا رہا ہے۔ عباس صدیقی کو لے کر کانگرس لیڈر بھلے سوال اٹھاتے رہے ہوں، لیکن لیفٹ کے لیڈروں کو نہیں لگتا کہ انڈین سیکولر فرنٹ فرقہ پرست ہے۔ کانگریس کا لیفٹ کے ساتھ اتحاد بنگال میں ضروری ہے: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات  کے لئے کانگرس  نے لیفٹ کے ساتھ حال ہی میں نو تشکیل شدہ آئی ایس ایف کے ساتھ بھی اتحاد کیا ہے، لیکن غلام نبی آزاد کے ساتھ کانگرس کے باغی لیڈروں کے گروپ کا اہم چہرہ آنند شرما   نے اس اتحاد کو پارٹی کے بنیادی نظریہ، گاندھی واد اور نہرو وادی سیکولرازم کے خلاف بتایا ہے۔ راجیہ سبھا میں کانگرس کے سینئر لیڈر آنند شرما نے ٹویٹ کرکے کہا، آئی ایس ایف اور ایسی دیگر جماعتوں کے ساتھ کانگرس کا اتحاد پارٹی کے بنیادی نظریہ، گاندھی واد اور نہرو وادی سیکولرازم کے خلاف ہے، جو کانگرس پارٹی کی آتما ہے۔ ان موضوعات پرکانگرس ورکنگ کمیٹی میں غوروخوض ہونا چاہئے تھا۔ انہوں نے مزید لکھا، فرقہ پرستی کے خلاف لڑائی میں کانگرس منتخب  نہیں ہوسکتی ہے۔ ہمیں فرقہ واریت کی ہر شکل سے لڑنا ہے۔ مغربی بنگال پردیش کانگرس صدر کی موجودگی اور حمایت شرمناک ہے، انہیں اپنا موقف واضح کرنا اتھ اتحاد بنگال میں ضروری ہے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں