بیجنگ: چین کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ ہانگ کانگ کے قائد کو منتخب کرنے والی بیجنگ کی حامی کمیٹی اس شہر کے مقننہ کے کچھ ممبروں کا انتخاب کرے گی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس اقدام کے ساتھ ہی چین اپنے کنٹرول والے ہانگ کانگ کی سیاست پر اپنی پکڑ مضبوط کرنے کی تیاری کر رہا ہے ۔ جس سے ہانگ کانگ کی سیاست میں چین کی مداخلت میں مزید اضافہ ہوگا۔ قومی عوامی کانگرس (چین کی پارلیمنٹ) کی قائمہ کمیٹی کے وائس چیئرمین وانگ چن نے جمعہ کے روز بیجنگ میں سالانہ اجلاس میں یہ معلومات دی۔
انہوں نے کہا ، الیکشن کمیٹی کو کہ وہ ہانگ کانگ کی قانون ساز کونسل (لیگکو) میں تمام امیدواروں کو نامزد کر نے کا یہ حق حاصل ہوگا ۔ وانگ نے کہا کہ موجودہ انتخابی کمیٹی کے سائز ، ڈھانچے اور تشکیل کو بھی تبدیل کیا جائے گا اور انتخابی کمیٹی کا تقرر چیف ایگزیکٹو آفیسر ہی کرے گا۔ اس وقت ہانگ کانگ کی 70 رکنی قانون ساز کونسل کی نصف نشستوں کا انتخاب رائے دہندگی کے ذریعے کیا گیا ہے۔ باقی نشستوں کا انتخاب پیشہ ور افراد یا انشورنس ، انجینئرنگ اور زراعت جیسے مختلف شعبوں کے نمائندوں کو منتخب کیا جاتاہے ۔
ہے۔چین حمایتی انتخابی کمیٹی کے ذریعہ مقننہ کے لئے تمام امیدواروں کو نامزد کرنے کے فیصلے سے حزب اختلاف کے رہنماؤں کو انتخابات میں حصہ لینے کا موقع نہیں ملے گا۔ وانگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہانگ کانگ میں انتخابی نظام کی خامیوں کی وجہ سے چینی مخالف قوتوں نے ہانگ کانگ میں امن اور استحکام کو نقصان پہنچا تے ہیں اور یہ قوم کی سالمیت ، سلامتی اور ترقی کے لئے نقصان دہ ہے۔ اس مسودے میں ہانگ کانگ میں جمہوریت حمایتی مہم کے پیش نظر انتخابی نظام میں تبدیلی کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس فیصلے کے نفاذ سے ہانگ کانگ پر چین کے کنٹرول میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں