چنڈی گڑھ: زرعی قوانین کے خلاف جاری کسان تحریک کے درمیان پنجاب کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ در اصل ، مرکزی حکومت نے نیا داؤ کھیلتے ہوئے پنجاب کی چاول ملوں سے چاول لینے بند کر دئیے ہیں ، جس کی وجہ سے 4300 ملوں میں چھنٹائی کا کام بند ہو گیا ہے ۔ مرکزی وزارت خوراک نے 16 فروری کو یہ حکم جاری کرتے ہوئے کہا تھاکہ پنجاب سے تبھی چاول لیا جائے گا ، جب ان چاولوں میں پروٹین والا چاول ( فورٹی فائیڈ) ملایا گیا ہوگا ۔ پنجاب کی چاول ملوں کے پاس اس طرح کا کوئی انتظام نہیں ہے کہ راتوں رات پروٹین والے چاول عام چاول میں ملا دیں ۔
مرکزی نے واضح کی یہ بات
ذرائع کے مطابق ، مرکزی وزارت خوراک نے خط میں کہا تھا کہ مڈ ڈے کھانے اور آنگن واڑی مراکز میں دئیے جانے والے اناج کے تحت پروٹین والا چاول دیا جانا ہے ۔، جن کی فراہمی 6 ریاستوں سے ہونی ہے ۔ ان ریاستوں میں پنجاب بھی شامل ہے۔ مرکزی حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر پروٹین والا چوال مکس کرکے نہیں دیا جائے گا تو باقی چاولوں کی ڈلیوری بھی نہیں ہوگی ۔ ملاوٹ کے لئے تقریباً 10000 میٹرک ٹن پروٹین والے چاول کی ضرورت ہے۔
ملنگ کے کام کو لگی بریک
پنجاب کی چاول ملوں میں 1.99 کروڑ میٹرک ٹن پروٹین چاول ذخیرہ کیا گیا تھا ، جس کی ڈلیوری چاول ملوں نے مارچ ماہ میں دینی تھی ۔ یہاں کام تیزی سے چل رہا تھا ، لیکن اب مرکز کی نئی شرط کی وجہ سے ملنگ کا کام پر بریک پر لگ گئی ہے۔ پروٹین سے بھرپور چاولوں کی تجارت کرنے والی ملک گیر فرموں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ 30 جون سے پہلے عام مل مالکان کو نہیں دے سکتیں۔ اب ، اگر مرکزی حکومت ضد ہے کہ وہ بغیر پروٹین والے چاول کے عام چاول بھی نہیں لے گی ، تو گندم کے سیزن کے لئے مرکزی حکومت کی طرف سے سی سی ایل دینے سے بھی انکار کردینے کا امکان ہے ۔


کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں