انڈیا -انگلینڈ:چوتھے ٹیسٹ میں شکست کے بعد بھی ورلڈ چیمپیئن شپ کے فائنل میں پہنچ سکتی ہے ٹیم انڈیا - شیر پنجاب اردو نیوز About us| Contact US| Privacy Policy| Disclaimer| Terms And Conditions| Sitemap|

Translate

4 مارچ، 2021

انڈیا -انگلینڈ:چوتھے ٹیسٹ میں شکست کے بعد بھی ورلڈ چیمپیئن شپ کے فائنل میں پہنچ سکتی ہے ٹیم انڈیا

  نئی  دہلی: ہندوستانی کرکٹ شائقین کے لئے خوشخبری ہے  نجی شعبےانگلینڈ کے خنئیلاف چوتھا اور آخری ٹیسٹ ہارنے کے باوجود ، ٹیم ہندوستان ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے فائنل میں پہنچ سکتی ہے۔ اس کی وجہ جنوبی افریقہ کرکٹ بورڈ کی جانب سے آسٹریلیاکے بارے میں آئی سی سی کو شکایت کی جا سکتی ہے۔ در اصل ، کورونا کی وجہ سے ، آسٹریلیا نے حال ہی میں دورہ جنوبی افریقہ کو ملتوی کردیا۔ دونوں ممالک کے مابین تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز ہونی تھی۔ اس بارے میں جنوبی افریقہ کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی سے شکایت کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کرکٹ آسٹریلیا کو دورہ ملتوی کرنے پر جرمانہ عائد کیا جائے اور ان کی ٹیسٹ چیمپیئن شپ میں پوائنٹس کی کٹوتی کی جائے۔ اس کا انکشاف آسٹریلیائی اخبار سڈنی مارننگ ہیرالڈ نے کیا ہے۔

اگر آئی سی سی اس شکایت کی بنیاد پر پوائنٹس میں کمی کرتا ہے تو چوتھے ٹیسٹ میں ہارنے کے باوجود ، آسٹریلیا کے لئے ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے فائنل میں پہنچنا ناممکن ہوگا۔ فائنل رواں برس جون میں انگلینڈ کے تاریخی لارڈس میدان پر ہونا ہے اور نیوزی لینڈ کی ٹیم پہلے ہی فائنل میں پہنچ چکی ہے جبکہ فائنل کی دوسری ٹیم کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔احمدآباد میں کھیلا گیا تیسرا ٹیسٹ محض دو دن میں ہی ختم ہو گیا تھا جسے ہندوستان نے 10 وکٹ سے جیت لیا تھا۔

انگلینڈ کی ٹیم نے ہندوستانی سپنروں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے تھے اور دونوں پاری میں اس نے 112 اور 81 رن بنائے تھے۔ لیفٹ آرم اکشر پٹیل نے تیسرے دن نائٹ ٹیسٹ میں 11 اور آف اسپنر آر اشون نے سات وکٹ لے کر انگریزوں کو دو دن میں زمین پر پٹخ دیا تھا۔ چنئی میں دوسرے ٹیسٹ میں بھی سپنروں کا بول بالا تھا اور ہندوستان نے دوسرا ٹیسٹ 317 رن کے ریکارڈ فرق سے جیت لیا تھا۔ چوتھے ٹیسٹ میں بھی دونوں ٹیموں کا امتحان اسپن ٹریک سے ہی ہوگی جس کے لیے دونوں ٹیمیں پوری طرح تیاری کر چکی ہے۔انگلینڈ کے کپتان جو روٹ اسپن ٹریک کے چیلنج کے لیے تیار ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ اگر ان کی ٹیم یہ میچ جیت کر سیریز 2-2 سے ڈرا کروا لیتی ہے تو ان کے لیے ایک بڑی حصولیابی ہوگی۔ ہندوستان نے 2012 کے بعد سے کسی گھریلو سیریز میں دو ٹیسٹ نہیں گنوائے ہیں۔ اس وقت ہندوستان کو انگلینڈ سے 1-2 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ گھریلو سیریز میں ہندوستان کی آخری شکست تھی۔

 ٹیم ہندوستان ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے فائنل میں پہنچ سکتی ہے

دونوں ٹیمیں جانتی ہیں کہ چوتھے ٹیسٹ میں ان کا سامنا ایک اور اسپننگ ٹریک سے ہوگا۔ انگلینڈ کے وکٹ کیپر بین اسٹوکس کہہ چکے ہیں کہ چوتھے ٹیسٹ کی پچ میں تیسرے ٹیسٹ سے زیادہ ٹرن ہوگا جبکہ ہندوستانی نائب کپتان اجنکیا رہانے نے کہا ہے کہ چوتھے ٹیسٹ کی پچ دوسرے اور تیسرے ٹیسٹ جیسی ہی ہوگی۔ اس بار فرق اتنا ہی ہوگا کہ چوتھے ٹیسٹ میں گلابی نہیں لال بال ہوگی جس سے اسپنروں کی گیند میں اتنی تیزی نہیں ہوگی جتنی گلابی بال سے تھی۔ تیسرے ٹیسٹ میں گلابی بال سے 12 کھلاڑی پویلین لوٹے تھے جبکہ آٹھ کھلاڑی بولڈ ہوئے تھے۔ چنئی ٹیسٹ میں لال بال سے سات کھلاڑی پویلین لوٹے تھے جبکہ پانچ بولڈ ہوئے تھے لہذا مانا جا رہا ہے کہ چوتھے ٹیسٹ میں ٹرن تو ہوگا لیکن گیند میں اتنی ہی تیزی نہیں ہوگی۔

نگلینڈ کے کپتان روٹ جس خود اعتمادی کے ساتھ آخری میچ کی ماقبل شام پر سیریز ڈرا کروانے کی بات کہہ رہے ہیں اس سے تو لگتا ہے کہ ان کی ٹیم نے تیسرے ٹیسٹ میں سبق لے کر مضبوط تیاری کی ہے یہ دلچسپ ہے کہ انگلینڈ کے کپتان روٹ سمیت تمام انگلش کھلاڑیوں نے تیسرے ٹیسٹ کے بعد کے دنوں میں پچ کے سلسلے میں کوئی تنقید نہیں کی ہے اور یہی کہا ہے کہ گھریلو ٹیم کو اپنے حساب سے پچ تیار کرنے کا حق ہے۔ دوسری طرف ہندوستانی کھلاڑی اسپن ٹریک بنانے کے سوال پر اکھڑے نظر آئے ہیں جبکہ انھیں اس پر متوازن رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ اب انھیں اپنی پوری طاقت چوتھے ٹیسٹ کو جیتنے پر لگانی ہے کیونکہ جیت یا ڈرا ہی انھیں فائنل میں پنچائے گا۔چوتھے ٹیسٹ کے لیے تیز گیندباز جسپریت بمراہ ہندوستانی ٹیم سے باہر ہو چکے ہیں جنھیں ان کی ذاتی درخواست پر ٹیم سے ریلیز کر دیا گیا ہے۔

بمراہ کے باہر ہونے سے تیز گیندباز امیش یادو کو الیون میں جگہ ملنے کی پوری امید ہے۔ امیش نے تیسرے ٹیسٹ سے پہلے اپنا فٹنیس ٹیسٹ پاس کر لیا تھا۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ٹیم مینیجمنٹ الیون میں تیسرے ماہر اسپنر کے بطور چائنامین گیندباز کلدیپ یادو کو جگہ دیتا ہے یا نہیں۔ کلدیپ نے چنئی میں دوسری پاری میں دو وکٹ لیے تھے لیکن وہ تیسرے ٹیسٹ میں نہیں کھیلے تھے۔

انگلینڈ کے پاس لیفٹ آرم سپنر کے بطور جیک لیچ موجود ہیں جبکہ کپتان روٹ پارٹ ٹائم آف اسپن ڈالتے ہیں۔ روٹ نے گلابی گیند سے تیسرے ٹیسٹ کی پہلی پاری میں پانچ وکٹ لیے تھے جو ان کے فرسٹ کٹیگری کریئر میں ایک پاری میں پانچ وکٹ تھے۔ ڈومنینک بیس بھی اسپن ڈالتے ہیں۔ انگلینڈ کو ہندوستانی سپنروں کے سامنے اپنے کپتان روٹ سے ایک بڑی پاری کی امید ہوگی اور روٹ نے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ بیس چوتھے ٹیسٹ میں حتمی الیون میں لوٹیں گے۔شابھی تک کسی ٹیم نے اپنی حتمی الیون کا اعلان نہیں کیا ہے اور وہ آخری بار پچ دیکھنے کے بعد ہی الیون کا اعلان کریں گے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں