نئ دہلی: چین میں ہندوستان کے سفیر وکرم مصری نے جمعہ کے روز چینی نائب وزیر خارجہ لو ژوہئی سے ملاقات کی۔ انہوں نے مشرقی لداخ کے اہم حصوں سے دونوں ممالک کی فوجوں کی واپسی کے عمل کو مکمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس سے سرحد کے ساتھ امن و استحکام کی بحالی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سے دوطرفہ تعلقات میں ترقی کے لئے سازگار ماحول بھی بنے گا۔ انھوں نے مشرقی لداخ میں پینگونگ جھیل کے شمالی اور جنوبی ساحلوں سے دونوں ممالک سے فوجی اور فوجی سازوسامان کو ہٹائے جانےکی تکمیل پوری ہونے کے کچھ دن بعد ملاقات ہوئی ہے ۔
سمجھا جاتا ہے کہ ہندوستان نے گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے سینئر کمانڈروں کی دسویں دورکی میٹنگ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ خطے میں تناؤ کو کم کرنے کے لئے ہاٹ اسپرنگ ، گوگرا اور دیپسانگ جیسے علاقوں سے فوجوں کی واپسی کا عمل تیز کرنا پڑے گا۔ یہاں ہندوستانی سفارتخانے نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ سفیر وکرم مصری نے نائب وزیر خارجہ لو ژوہئی سے آج ملاقات کی۔ نئی دہلی میں ، ہندوستانی وزارت خارجہ نے مشرقی لداخ کے تنازعہ کا معاملہ جمعہ کے روز اٹھایا ، اور امید کی ہے کہ وہ چین کے سفارت کاروں اور فوجی کمانڈروں کے مابین موجود مکالمہ میکانزم کے ذریعے فوجیوں کی واپسی کو یقینی بنانے کے لئے مشرقی لداخ کے باقی علاقوں سے فوجیوں کو پیچھے کرنے کا عمل پورا کریں گے۔
تاکہ دونوں فریق اپنی افواج کو ہٹاسکیں۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں دونوں ممالک کی افواج نے پنگونگ سو کے شمالی اور جنوبی اطراف میں فوجیوں کی واپسی کا عمل حال ہی میں مکمل کیاہے۔یہ بتادیں دونوں ممالک کی فوجوں نے کہ مشرقی لداخ میں کئی مہینوں کی تعطل کے بعد شمالی اور جنوبی پینگونگ خطے سے اپنی فوج اور اسلحہ واپس لے لیا تھا۔ تاہم ، کچھ معاملات ابھی باقی ہیں۔ بات چیت کے دوران ، خیال کیا جاتا ہے کہ ہندوستان نے گوگرا ، ہاٹ اسپرنگ ، ڈیپسانگ جیسے علاقوں سے بھی تیزی سے پیچھے ہٹنے پر زور دیا تھا۔ وزیر خارجہ ایس جیشنکر اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے گذشتہ ہفتے تقریبا 75 منٹ ٹیلیفون پر بات کی تھی۔ جیشنکر نے وانگ کو بتایا کہ دو طرفہ تعلقات کی ترقی کے لئے سرحد کے ساتھ امن و استحکام ضروری ہے۔ دونوں رہنماؤں نے مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول سے متعلق امور اور ہند -
چین تعلقات کی پوری جہت پر تبادلہ خیال کیا۔ہندستان اور چین کی افواج کے مابین سرحدی تنازعہ کا آغاز گذشتہ سال 2020 میں 5 مئی سے شروع ہوا تھا۔ پینگونگ لیک کے علاقے میں دونوں ممالک کے مابین پرشدید جھڑپیں ہوئیں اور اس کے بعد دونوں ممالک نے ہزاروں فوجیوں کو کئی جگہوں پر تعینات کردیا ۔ اس کے بعد ، پچھلے چار دہائیوں کے دوران سب سے بڑے محاذ آرائی میں 15 جون کو وادی گلوان وادی میں ایک جھڑپ میں 20 ہندوستانی فوجی شہید ہوگئے تھے۔ اس جھڑپ کے قریب آٹھ ماہ کے بعد ، چین نے اعتراف کیا کہ اس کے بھی چار فوجی اہلکار مارے گئے تھے ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں