احمدآباد :پولیس نے راجستھان کے پالی سے گرفتار عارف سے اس کا موبائل فون بھی برآمد کرلیا۔ عائشہ کے اہل خانہ کا دعوی ہے کہ انہوں نے خودکشی کرنے سے پہلے عارف سے 1 گھنٹہ 10 منٹ تک بات کی۔ اب پولیس کے پاس اس گفتگو کی ریکارڈنگ بھی موجود ہے جس میں عارف نے مبینہ طور پر عائشہ سے کہا تھا - تم ، جا مرو اور مجھے ویڈیو بھیج دو۔
عائشہ کے اہل خانہ کا دعوی ہے کہ عارف کو دوسری لڑکی سے بھی پیار تھا۔ اب پولیس موبائل ڈیٹا کے ذریعے اس دعوے کی تحقیقات کررہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس اس بات کی بھی چھان بین کررہی ہے کہ وہ کون سی لڑکی ہے جس کا عارف کے ساتھ عشق چل رہاتھا۔
عائشہ نے سال 2020 میں عارف اور اس کے اہل خانہ کے خلاف جہیز کے لیے ہراسانی کا مقدمہ درج کروایا تھا۔ عارف اور اس کے اہل خانہ کو بھی اس کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم ، وہ سب ضمانت پر رہا ہوئے تھے۔ عارف کے فون سے پولیس کو ملی حالیہ ریکارڈنگ میں ، وہ عائشہ سے جہیز کی بات بھی کررہا تھا۔موصولہ اطلاع کے مطابق پولیس عارف کے موبائل کی ویڈیو ، آڈیو اور کیس میں شواہد اکٹھا کرکے تفتیش کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی فون کو ایف ایس ایل کو بھیجا جائیگا۔
عائشہ کے وکیل نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئیعائشہ کے درد کو بیان کیا۔عائشہ کے وکیل ظفر پٹھان نے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 23 سالہ عائشہ کی شادی عارف سے ہوئی تھی جو راجستھان کے جالور میں رہتا ہے۔وکیل نے عارف پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ عارف خان کے راجستھان کے ایک لڑکی سے تعلقات ہے اور عارف خان عائشہ کے سامنے ویڈیو کال پر گرل فرینڈ سے بات چیت کیا کرتا تھا۔وہ اپنی گرل فرینڈ پر پیسہ خرچ کرتا تھا اور اسی وجہ سے وہ عائشہ کے والد سے رقم مانگتاتھا۔
اس کے باوجود عائشہ اپنے غریب والدین کی عزت کو برقرار رکھنے کے لئے لڑتی رہی۔ وہ ہر لمحہ ایک نئی پریشانی سے گذرتی رہی ، لیکن خاموش رہی۔ وکیل کا کہناہے کہ بیویکے سامنے ہی اپنی گرل فرینڈ سے بات چیت کرنے والے شوہر عارف خان نے اپنی کئی اوچھی حرکتوں سے اپنے ہی کردار کا خلاصہ کیاتھا۔




کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں