گیتا کو جلد مل سکتا ہے اس کا کنبہ، ڈی این اے میچ ہوا تو ماں کو ملے گی بیٹی - شیر پنجاب اردو نیوز About us| Contact US| Privacy Policy| Disclaimer| Terms And Conditions| Sitemap|

Translate

13 مارچ، 2021

گیتا کو جلد مل سکتا ہے اس کا کنبہ، ڈی این اے میچ ہوا تو ماں کو ملے گی بیٹی


نئی دہلی :پاکستان سے پانچ سال پہلے اپنے ملک آئی معذور گیتا کو اس کی ماں مل گئی۔ مہاراشٹر کی مینا پاندرے نے گیتا کو اپنی بیٹی بتایا ہے۔ مینا اورنگ آباد کے واجول کی رہنے والی ہے۔ ان ک یمطابق گیتا کا نام رادھا واگھ مارے ہے۔ مینا نے پہلے شوہر کے گزرنے کے بعد دوسری شادی کر لی تھی۔گیتا نے جمعرات کو مینا پاندرے اور ان کے کنبے سے ملاقات کی۔ مینا کا کہنا ہے کہ گیتا کے پیٹ پر وہی جلے کا نشان ہے جو کبھی ان کی گم ہوئی بیٹی کے پیٹ پر تھا۔ اب ڈی این اے ڈی این  اے کرایا جائے گا۔ مینا کا گیتا سے ڈی این اے  میچ ہونے کے بعد قانونی عمل پورا کیا جائے گا۔ اس کے بعد ہی گیتا کو اس کی ماں کو سونپا جا سکے گا۔

گیتا پاکستان میں ایک ریلوے سٹیشن پر 11-12 سال کی عمر میں ملی تھی۔ پاکستان کے ایدھی ویلفیئر ٹرسٹ نے انہیں اپنے پاس رکھا تھا۔ 26 اکتوبر 2015  کو اس وقت کی وزیر خارجہ سشما سوراج کی پہل پر گیتا کو پاکستان سے ہندستان لایا گیا تھا۔ تب سے اندور کی موک۔بادھروں کی تنظیم میں رکھا گیا تھا۔ یہاں سے اس کے کنبے کی تلاش کی گئی۔ گیتا نہ بول سکتی ہے اور نہ سن پاتی ہے۔ وہ پڑھی لکھی بھی نہیں تھی۔ ایسے میں جانکاری نکلوا پانا مشکل تھا۔

اس طرح کر سکتے ہیں یقین

اندور کے آنند سروس سوسائٹی کے عہدیداروں نے بتایا کہ گیتا بول نہیں پاتی لیکن اس نے اشاروں میں بتایا تھا کہ جہاں وہ رہتی تھی وہاں ایک ندی تھی اور گنے، مونگ پھلی کے کھیت تھے۔ ان کے مطابق یہ سبھی باتیں مہاراشٹر کے اورنگ آباد اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے جڑی نظر آتی ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں