ملک کی ترقی میں خواتین کا اہم کردار رہا ہے:پروفیسر نجمہ اختر - شیر پنجاب اردو نیوز About us| Contact US| Privacy Policy| Disclaimer| Terms And Conditions| Sitemap|

Translate

12 مارچ، 2021

ملک کی ترقی میں خواتین کا اہم کردار رہا ہے:پروفیسر نجمہ اختر



ئی
دہلی: دنیا کے مختلف اداروں خصوصاً تعلیمی اداروں میں خواتین کی قیادت پر زور دیتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر نے کہا کہ ملک کی قیادت میں خواتین کا اہم رول رہا ہے یہ بات انہوں نے عالمی یوم خواتین کے موقع پر ڈِپارٹمنٹ آف ایڈَلٹ اینڈ کانٹی نیواِنگ ایجوکیشن اینڈ ایکسٹنشن (ڈی اے سی ای ای) جامعہ ملیہ اسلامیہ نے’خواتین اور تعمیرِ قوم: مسائل اور تقاضے‘ کے عنوان پر ایک آن لائن قومی ویبینار میں کلیدی خطبہ پیش
انھوں نے صنفی امتیازات کو دور کرنے میں اُن اہم کردار پرک روشنی ڈالی جو مختلف اداروں کو ادا کرنا چاہیے۔ اُنھوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ خواتین کی ترقی میں حائل مسئلوں اور تقاضوں کا مقابلہ تمام شعبہ جات خصوصاً سائنس، ٹکنالوجی، انجینئرنگ، ریاضی اور دیگر غیر روایتی کورسز میں خواتین کی شمولیت کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ چونکہ تعمیرِ قوم کا عمل پیچیدہ ہے، لہذا اس میں کسی ایک بھی جنس کو خارج نہیں کیا جاسکتا۔

اِس موقع پر پروفیسر رویندر کمار،ڈین، فیکلٹی آف سوشل سائنسزنے اپنے خطاب میں منو اسمرتی کے کچھ خوبصورت شلوکوں اور ٹیگور کی نظموں کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ خواتین تقدیر سازہوتی ہیں۔ خواتین کی تعلیم، ان کا احترام، صنفی مساوات اور ان کی شمولیت ہی وہ اساس ہے جس پرتعمیر قوم کی تشکیل کا انحصار ہونا چاہیے۔ڈاکٹر انوارہ ہاشمی، اسسٹنٹ پروفیسر، ڈی اے سی ای ای کے طلبا محترمہ بھاوِکا ڈانگی،مسٹر گورَوجوشی اورمسٹر محمد مقیم احمد نے ویبینار کے ممتاز مقررین کا تعارف پیش کیا۔

اپنے خطاب میں پروفیسر وندنا چکرورتی، سابق پی وی سی اور ڈائریکٹر، لائف لانگ لرننگ اینڈ ایکسٹینشن،ایس این ڈی ٹی ویمن یونیورسٹی، ممبئی نے کہا کہ تعمیر قوم کا راستہ بالغوں کی خواندگی خصوصا ًخواتین کی خواندگی سے ہوکر گزرتا ہے۔ خواندگی کا تغیراتی اثر پڑتا ہے۔اس ویبینار میں ملک کی جن معزز اور ممتاز شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اُن میں ڈاکٹر شکیلہ ٹی شمسو، پروفیسر کیرتی جین، ڈاکٹر امیتا مہاجن، ڈاکٹر نیشا من دی رتا، پروفیسر شوہنی گھوش اور پروفیسر صبیحہ انجم زیدی کے نام قابل ذکر ہیں۔ ڈاکٹر نصریٰ شبنم کے اظہار تشکر پر ویبینار کا اختتام ہوا۔قبل ازیں ویبینار کی کنوینر اور ناظمہ ڈاکٹر شِکھا کپور نے اپنے تعارفی کلمات میں کہا کہ صدیوں سے خواتین نے مختلف شعبوں میں اورتعمیر ِ قوم کے عمل میں غیر معمولی اور مثالی شرکت رہی ہے،لیکن بدستور ان کی شناخت نہیں ہوتی اور نہ اُنھیں تسلیم کیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ اِس ویبینارکا انعقاد مختلف پیشہ ورانہ میدانوں سے تعلق رکھنے والی چند قابل ذکر خواتین کی زندگی اور اُن کی خدمات کے اعتراف کے مقصد سے کیا گیا تھا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں