اِس موقع پر پروفیسر رویندر کمار،ڈین، فیکلٹی آف سوشل سائنسزنے اپنے خطاب میں منو اسمرتی کے کچھ خوبصورت شلوکوں اور ٹیگور کی نظموں کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ خواتین تقدیر سازہوتی ہیں۔ خواتین کی تعلیم، ان کا احترام، صنفی مساوات اور ان کی شمولیت ہی وہ اساس ہے جس پرتعمیر قوم کی تشکیل کا انحصار ہونا چاہیے۔ڈاکٹر انوارہ ہاشمی، اسسٹنٹ پروفیسر، ڈی اے سی ای ای کے طلبا محترمہ بھاوِکا ڈانگی،مسٹر گورَوجوشی اورمسٹر محمد مقیم احمد نے ویبینار کے ممتاز مقررین کا تعارف پیش کیا۔
اپنے خطاب میں پروفیسر وندنا چکرورتی، سابق پی وی سی اور ڈائریکٹر، لائف لانگ لرننگ اینڈ ایکسٹینشن،ایس این ڈی ٹی ویمن یونیورسٹی، ممبئی نے کہا کہ تعمیر قوم کا راستہ بالغوں کی خواندگی خصوصا ًخواتین کی خواندگی سے ہوکر گزرتا ہے۔ خواندگی کا تغیراتی اثر پڑتا ہے۔اس ویبینار میں ملک کی جن معزز اور ممتاز شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اُن میں ڈاکٹر شکیلہ ٹی شمسو، پروفیسر کیرتی جین، ڈاکٹر امیتا مہاجن، ڈاکٹر نیشا من دی رتا، پروفیسر شوہنی گھوش اور پروفیسر صبیحہ انجم زیدی کے نام قابل ذکر ہیں۔ ڈاکٹر نصریٰ شبنم کے اظہار تشکر پر ویبینار کا اختتام ہوا۔قبل ازیں ویبینار کی کنوینر اور ناظمہ ڈاکٹر شِکھا کپور نے اپنے تعارفی کلمات میں کہا کہ صدیوں سے خواتین نے مختلف شعبوں میں اورتعمیر ِ قوم کے عمل میں غیر معمولی اور مثالی شرکت رہی ہے،لیکن بدستور ان کی شناخت نہیں ہوتی اور نہ اُنھیں تسلیم کیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ اِس ویبینارکا انعقاد مختلف پیشہ ورانہ میدانوں سے تعلق رکھنے والی چند قابل ذکر خواتین کی زندگی اور اُن کی خدمات کے اعتراف کے مقصد سے کیا گیا تھا

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں