تاہم لطیف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان جس قسم کی مشکلات سے گزر رہا ہے اس کا حل صرف نئے سرے سے انتخابات ہیں۔ انتخابی اصلاحات کا معاملہ بھی ضروری ہے اور انتخابات کے بعد اس پر کام ہونا چاہیے۔ انتخابات میں ای وی ایم کا استعمال اور بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے ووٹ کا حق دو ایسے مسائل ہیں جنہیں پہلے حل کیا جانا چاہیے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب مسلم لیگ ن کے رہنما نے شریف کی پاکستان واپسی کے بارے میں بات کی ہو۔ اس سے پہلے بھی کئی پارٹی رہنما اسی طرح کے دعوے کر چکے ہیں۔ لطیف کا یہ بیان اس خدشے کے درمیان آیا ہے کہ حال ہی میں بننے والی مخلوط حکومت چھ ماہ سے زیادہ نہیں چل سکتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں