کیا کہوں؟ - شیر پنجاب اردو نیوز About us| Contact US| Privacy Policy| Disclaimer| Terms And Conditions| Sitemap|

Translate

11 اپریل، 2022

کیا کہوں؟

:جالندھر

میری بیوی کا وہ سونا چہرہ 

کیا کہوں سوچتا ہوں 

پہلے ہی کی طرح خاموش رہوں

 اور چھپا لوں کسی طرح اپنی غفلت کے گناہ 

جن کا گلہ میری بیوی نے کبھی مجھ سے نہ کیا

 مجھے حالات کرماں سے کبھی فرست نہ ملی 

اسے اپنے حصے کی کبھی مجھ سے محبت نہ ملی 

گھر کی چار دیواری میں ہردم

میں کتنی دور نکل آیا ہوں  

بد نصیبی کے سفر پر ٹھوکریں کھاتے ہوئے دربدر

کیا دوں  کیادوں ان آرزؤں کو ناجو شام ڈھلتے میرے ذہن میں اتر آئی ہیں

وہ بیوی کو بہت ساپیار کرنے کی خواہش

وہ اس کے چہرے کو گلاب سا تکنے کا خواب

 وہ رنجو غم جو اسنے  اپنی مسکان تلے مجھ سے چھپائے رکھا

 وہ اس کے دروں کی کڑاہٹ جو میں کبھی سن نہ سکا

 وہ سب آج اس کے سونے چہرے پے لکھا ہے اور وہ پھر بھی کہتی ہے

 کہ اسکو مجھ سے نہ کوئی شکواہ ہے یہی مقام میری راہوں میں ابھرا ہوا ایک  نشطر ہے 

 کس طرح دھو لوں  اپنی غفلت کے گناہ  

 جن کا گلہ میری بیوی نے کبھی  مجھ سے نہ کیا 

 کیا کروں ان ارزؤں کا جو شام ڈھلتے میرے ذہن میں اتر آئی ہیں

 ترلوک بیر         

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں