یوکرین کی عدالت نے پہلی بار روسی فوجی کو جنگی جرائم کے جرم میں عمر قید کی سزا سنادی - شیر پنجاب اردو نیوز About us| Contact US| Privacy Policy| Disclaimer| Terms And Conditions| Sitemap|

Translate

23 مئی، 2022

یوکرین کی عدالت نے پہلی بار روسی فوجی کو جنگی جرائم کے جرم میں عمر قید کی سزا سنادی



کیف
: یوکرین کی ایک عدالت نے پیر کو ایک 21 سالہ روسی فوجی کو ملک میں ایک شہری کو قتل کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد اسے پہلی بار جنگی جرائم کے مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے۔ سارجنٹ وادیم ششمرین پر جنگ کے ابتدائی دنوں میں شمال مشرقی سمی علاقے کے ایک گاؤں میں یوکرینی شہری کو گولی مار کر ہلاک کرنے کا الزام ہے۔ روسی فوجی نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بیان دیا کہ اس نے یوکرین کے شہری کو اس لیے گولی ماری کیونکہ اسے ایسا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

اس نے عدالت کو بتایا کہ ایک افسر نے کہا کہ یہ یوکرینی شخص اپنے موبائل فون پر بات کر کے یوکرینی فوجیوں کو اپنے مقام کے بارے میں بتا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق یوکرین میں تین ماہ سے جاری جنگ نے دنیا بھر میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد کو ریکارڈ حد تک دھکیل دیا ہے اور دنیا بھر میں 100 ملین سے زائد افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

 دریں اثنا، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ویڈیو لنک کے ذریعے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس سے خطاب کیا۔ انہوں نے تمام روسی بینکوں پر پابندیاں، روسی تیل کی درآمد پر پابندی اور اس(روس)کے ساتھ تمام تجارت روکنے  کے ساتھ  روس پرزیادہ سے زیادہ پابندیاںلگانے کا مطالبہ کیا۔ زیلنسکی نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے روسی فوجیوں کی پیش قدمی کو سست کر دیا ہے اور یوکرین کے عوام کی ہمت نے جمہوری دنیا سے یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ڈونباس میں یوکرینی اور روسی فوجیوں کے درمیان لڑائی نے بہت سے شہریوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ پیر کو ٹوکیو میں امریکی صدر جو بائیڈن اور جاپانی وزیر اعظم Fumio Kishida نے یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت کی۔

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں