پیانگ پیانگ: شمالی کوریا میں انفیکشن کے پہلے کیس کی تصدیق کے بعد ملک کے رہنما کم جونگ ان نے شہروں اور کاؤنٹیوں میں مکمل لاک ڈاؤن لگانے کا حکم دیا ہے۔ کووڈ-19 عالمی وبا کے پھیلنے کے دو سال بعد شمالی کوریا میں انفیکشن کے پہلے کیس کی تصدیق ہوئی ہے۔
شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'کورین سنٹرل نیوز ایجنسی(کے سی این اے) نے کہا ہے کہ اتوار کو دارالحکومت پیانگ یانگ میں ٹیسٹ کے لیے کچھ لوگوں کے نمونے لیے گئے، جن کے کورونا وائرس کی 'اومیکرون' شکل سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
کے سی این اے نے اطلاع دی ہے کہ ملک کے رہنما کم جونگ ان نے انفیکشن کے کیسز سامنے آنے کے بعد شہروں اور کاؤنٹیوں میں مکمل لاک ڈان کا مطالبہ کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 2.6 کروڑ کی آبادی والے ملک میں زیادہ تر لوگوں کو COVID-19 کے خلاف ویکسین نہیں دی گئی ہے۔ شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ 'کوویکس' ویکسین کی تقسیم کے پروگرام سے مدد لینے کی پیشکش ٹھکرا دیاتھا۔
ایجنسی نے کہا کہ کم نے حکمراں کوریا کی ورکرز پارٹی کے پولٹ بیورو کی میٹنگ میں حکام سے بھی کہا کہ وہ جلد سے جلد انفیکشن کو روکنے اور جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کو بھی کہا ہے ۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ شمالی کوریا میں انفیکشن کے کتنے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور وہاں عالمی وبا کے پھیلنے کا اثر کتنا ہے۔
اس سے قبل شمالی کوریا نے دعوی ٰکیا تھا کہ اس کے ملک میں کووڈ-19 کا ایک بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ اس نے کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد اپنی تمام سرحدیں بند کر دیں اور تقریبا دو سال تک تمام تاجروں اور سیاحوں کے ملک میں داخلے پر پابندی لگا دی۔ جوہری ہتھیاروں اور میزائل پروگرام کی وجہ سے پہلے ہی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے والے ملک کی معیشت کورونا وائرس سے متعلق پابندیوں کی وجہ سے مزید مشکلات کا شکار ہوگئی تھی۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں