ان کی ذاتی زندگی، صحت اور حکمت عملی کے بارے میں صرف چند لوگ ہی جانتے ہیں۔برطانوی انٹیلی جنس حکام کے مطابق پوتن کے ساتھیوں کو ان کی موت کا راز کئی ہفتوں یا مہینوں تک دنیا سے پوشیدہ رکھنا ہو گا۔ ڈیلی اسٹار نے رپورٹ کیا کہ ایک انٹیلی جنس ذرائع نے کہا کہ امکان ہے کہ پوتن کی حالیہ عوامی نمائش پہلے سے ریکارڈ کی گئی تھی۔ وہ غالبا مر چکا ہے اور اس کی جگہ ایک ہم شکل نے لے لی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پوتن انتہائی بیمار ہیں اور اگر وہ مر جاتے ہیں تو اسے کئی ہفتوں یا مہینوں تک خفیہ رکھا جائے گا۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ وہ پہلے ہی مر چکا ہے۔ اس کا پتہ لگانا ناممکن ہے۔پوتن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ جب وہ بیمار تھے تو وہ اپنے ہم شکل کا استعمال کرتے تھے اور اب کریملن بھی ایسا ہی کر رہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پوتن سینئر عہدیداروں کے ایک چھوٹے سے گروپ کے سربراہ ہیں جو ان کے مکمل وفادار ہیں۔ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ ان کے قریبی دوستوں کا سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ جیسے ہی پوتن کی موت کی خبر سامنے آتے ہی روس میں بغاوت ہو سکتی ہے اور روسی جرنل یوکرین سے فوج نکال لے گا۔ پوٹن کی موت انہیں کمزور اور اقتدار سے بے دخل کر دے گی، اس لیے ضروری ہے کہ پوٹن کو زندہ بتائیںیہ ان کے بہترین مفاد میں ہے۔
تقریبا دو ہفتے قبل روس کے ایک ارب پتی تاجر اور کریملن کے بااعتماد نے دعویٰ کیا تھا کہ پوتن بلڈ کینسر میں مبتلا ہیں اور انتہائی بیمار ہیں۔ یہی نہیں یوکرین کے حملے سے قبل اس کی سرجری بھی ہو چکی ہے۔ اسی دوران، ایک MI6 ایجنٹ کا کہنا ہے کہ پوتن کی بگڑتی ہوئی صحت کی وجہ سے وہ اقتدار پر اپنی گرفت کھو رہے ہیں۔
برطانیہ کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق جاسوس کرسٹوفر اسٹیل نے دعوی ٰکیا ہے کہ پوتن اپنی بگڑتی ہوئی صحت کی وجہ سے اقتدار پر اپنی گرفت کھو رہے ہیں اور کریملن کو بد نظمی اور انارکی میں ڈال رہے ہیں۔ روس میں MI6 کے ایک ایجنٹ سٹیل نے دعویٰ کیا کہ پوٹن کو علاج کے لیے بار بار وقفہ لینا پڑتا ہے اور ماسکو میں موثر طریقے سے کوئی واضح سیاسی قیادت موجودنہیں ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں