افغانستان کے آبی وسائل کے ماہر نجیب اللہ سعدید نے بدھ کے روز کہا کہ خطے میں مون سون کی وجہ سے شدید بارشیں ہو رہی ہیں، جس سے روایتی کچے مکانات کمزور ہو رہے ہیں۔ اور اسی وجہ سے زلزلہ زیادہ خوفناک ثابت ہوا۔ زلزلے کا مرکز نسبتا زیادہ ہونے کی وجہ سے تباہی میں بھی اضافہ ہوا۔
ملک میں کنڑ، ننگرہار، نورستان، لغمان، پنجشیر، پروان، کابل، کاپیسا، میدان، وردک، بامیان، غزنی، لوگر، سمنگان، سرائیکی -پل، تخار، پکتیا، خوست، کاپیسا کے علاقے متاثر ہیں۔
نائب وزیر مولوی شرف الدین مسلم، جو قدرتی آفات سے نمٹنے کے محکمے کی نگرانی کرتے ہیں، نے کہ اس عرصے کے دوران بچائے گئے افراد کو ہسپتالوں میں بھیج دیا گیا ہے۔ اس سیلابی پانی میں جن کے مکانات منہدم ہو گئے انہیں خیموں میں پہنچا دیا گیا ہے۔ 2022 میں افغانستان میں قدرتی آفت کے باعث 30 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔
طاقتور زلزلے میں 1,000 سے زیادہ افراد کی جانیں گئیں اور 1,500 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ افغانستان میں زیادہ تر کچے مکانات ہیں، جو زلزلے سے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور ان کے نیچے اب بھی متعدد افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے عالمی برادری اور تمام انسانی تنظیموں سے مدد کی اپیل کی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں