اردو زبان ایک خوشبو کی طرح ہے، اس کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، حسن عبدالکریم چوگلے - شیر پنجاب اردو نیوز About us| Contact US| Privacy Policy| Disclaimer| Terms And Conditions| Sitemap|

Translate

3 جون، 2022

اردو زبان ایک خوشبو کی طرح ہے، اس کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، حسن عبدالکریم چوگلے

نئی دہلی/دوحہ: اردو زبان ایک خوشبو کی طرح ہے۔ زبان کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، یہاں پر بھی کوئی سرحد نہیں ہے۔ ہر جگہ کے لوگ موجود ہیں۔بھید بھا، مفاد پرستی کو قلم اور صحافت کے ذریعہ دور کیا جا سکتا ہے۔یہ بات بزم اردو قطر کے زیر اہتمام اردو صحافت کا دو سو سالہ جشن و سالانہ مشاعرے کی  صدارت کرتے ہوئے بزم کے سرپرست اعلی حسن عبد الکریم چوگلے نے کہی۔

انھوں نے دوحہ قطر میں اردو کے تعلق سے ہونے والے کام کی ستائش کی اور کہا کہ اردو کے تعلق سے جو بھی کام ہو رہا ہے اسے جدید ٹکنالوجی کے توسط سے منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر قطر کے صاحب دیوان شعرا پر مشتمل ایک کتاب کی اشاعت کا بھی اعلان کیا جس کی ذمہ داری بزم کی جنرل سکریٹری احمد اشفاق کو دی۔

استقبالیہ کلمات میں اعجاز حیدر نے بزم کا تعارف اور بزم کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ بزم نے اب تک سلور جبلی، گولڈن جبلی کے ساتھ ساتھ سینکڑوں رزمیہ، حمدیہ،نعتیہ اور طرحی مشاعرے کامیابی کے ساتھ منعقد کر چکی ہے اوربزم کی ہی کاوشوں سے  میں اردو ریڈیو قطر کا آغاز ممکن ہو سکا، اب تک بزم کے ذریعے اہم پروگرام اور ان میں شرکت کرنے والی اہم شخصیات اور شعراکا ذکر کیا۔

صحافت کے دوسو سال مکمل ہونے پر بزم کے نائب صدر اطہر اعظمی نے مختصر مگر جامع مضمون پیش کیا جس میں اردو صحافت کے  سو سالہ دور میں اسکے کردار،درپیش چیلینجز،مشکلات اور مسائل کے حل پر روشنی ڈالی گئی۔

طفیل احمد )عمان( نے اردو صحافت کو با اثر بنانے زور دیتے ہوئے کہا کہ صحیح خبروں کے لیے صحافت کا با اثر اور خود مختار ہونا ضروری ہے۔ اردو صحافت کی پہنچ اور اثر، مالیات کی کمی دوسری زبانوں کے مقابلے بہت کم ہیں۔ اردو صحافت دوسری زبان سے متاثر نظر آتی ہے اسلیے ان بنیادی منفی اثرات کو ختم کرنا ہوگا ایسے میں ہمارا رول دوسرے درجے کا ہوگا ہم راہ نما نہیں بن سکتے۔ انھوں نے آخر میں امید ظاہر کی کہ یہ قدم قطر سے ہی شروع ہوگا۔

عظیم عباس نے مختصرا اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اردو کو رومن یا اور زبان میں لکھ کر غیر مسلمین تک پہنچا سکتے ہیں تاکہ اردو کی ترویج و ترقی ممکن ہو سکے۔

ڈاکٹر ثروت زہرا نے کہا کہ زبان کی بات کرنے کا مطلب زبان کی ترویج ہوتی ہے،بہترین سماعت پر انھوں نے کہا کہ آپ سامعین کے اندر اچھے سامعین کی تمام خوبیاں موجود ہیں۔

اس موقع پر مہمانوں کی خدمت میں لوح سپاس ڈاکٹر ثروت زہرا )دوبئی(،طفیل احمد)عمان(،مسعود حساس )کویت(، عائشہ شیخ عاشی)دوبئی(،سمیعہ نازملک )شارجہ(،کپل بترا)بحرین( اور جناب شہاب الدین کو)عادل م مظفرپوری کا لوح سپاس( بزم اردو قطر کے سرپرست اعلی جناب حسن عبدالکریم چوگلے اور عظیم عباس و دیگر سرپرستان کے ہاتھوں دیا گیا۔

جس میں درج ذیل شعرا نے اپنا کلام پیش کیا۔

کپل بترا

اے ساقی تو مرا پیمانہ ذر ا کم بھرنا

مجھ سے نزدیکیوں کا اپنی نہ وہم بھرنا

اجمل بسہمی

کبھی تہذیب سے کٹیا بھی رہتی تھی بہت روشن

یہ عالم ہے کہ اب محلوں میں دولت سے اجالے ہیں

طاہر جمیل

یہ محتسب یہ عدالت تو اک بہانہ ہے

جو طے شدہ ہے وہی فیصلہ سنانا ہے

راقم اعظمی

یقیناکامیابی پاں چومے گی ترا اک دن

بس اپنی جیت کا دل میں ہمیشہ حوصلہ رکھنا

راشد عالم راشد

مری ضرورت پہ وقت مجھ سے ہی تھا گریزاں

اب اس کی بے وقت مہربانی کا کیا کروں میں

ڈاکٹر ندیم جیلانی

نیلام کر قلم کو قصیدوں کے بند لکھ

مرضی تری ہے زہر ہلاہل کو قند لکھ

قیصر مسعود

آیا ہوں تیرے شہر میں بار دگر مگر

اب اور میں کسی کا ہوں مہمان معذرت

اطہر اعظمی

کرتے رہیے من کی بات اس کے علاوہ کرنا کیا

جب مرنا ہی ہے اک دن پھر حالات سے ڈرنا کیا

آصف شفیع

کاش پھر مجھ سے وہ پوچھیں مری وحشت کا سبب

کاش پھر مجھ کو وہ تصویر دکھانی پڑ جائے

احمد اشفاق

امیرِ شہر کی نا اہلیت بھی ہے ہنر مندی

غریبی میں عقل مندی پشیمانی میں رہتی ہے

سمیعہ ناز ملک

کس قدر گہرا فسوں ہے اور میں ہوں

گریہ سوز دروں ہے اور میں ہوں

عائشہ شیخ عاشی

خوش ہوکے درختوں کی طرف دیکھنے والو

پنجروں سے پرندوں کو رہا کون کرے گا

مسعود حساس

لوگ کہتے ہیں کہ آجا نا سردار کے ساتھ

میری بنتی نہیں قوم کے غدار کے ساتھ

ریاض شاہد

جسے آگہی و شعور تھا اسے بزم سے ہی اٹھا دیا

جو چراغ عہد وفا جلا اسے نفرتوں نے بجھا دیا

اعجاز حیدر

میرے اندر شور مچاتی خاموشی

مار نہ ڈالے لب پر آتی خاموشی

طفیل احمد

جو دعا کو ہاتھ مرے اٹھے تو کسی نے چپکے سے یہ کہا

کہ ضروری نہیں کہ قبول ہو یہ دعا نہیں ہے فقیر کی

ڈاکٹر ثروت زہرا

تمھاری منتظر یوں تو ہزاروں گھر بناتی ہوں

وہ رستہ بنتے جاتے ہیں کچھ اتنے در بناتی ہوں

آخر میں ناظم مشاعرہ احمد اشفاق نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ کے ساتھ مشاعرے کے اختتام کا اعلان کیا۔


 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں