چنڈی گڑھ: پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے قتل سے متعلق ایک بڑی خبر سامنے آ رہی ہے۔ موسے والا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بڑا انکشاف سامنے آیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سدھو موسے والا کی موت گولی لگنے کے تقریبا 15 منٹ بعد ہوگئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق سدھو موسے والا کے جسم پر گولیوں کے لگ بھگ 19 زخم اور زخم دیکھے گئے ہیں۔ حملے کے دوران سدھو موسے والا کے چہرے پر کسی قسم کی کوئی چوٹ نہیں آئی، جب کہ ان کے جسم کے باقی حصے پر زخموں اور گولیوں کے نشانات نظر آئے۔ ساتھ ہی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ موسے والا کی دائیں طرف کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں، جگر پھٹا ہوا تھا۔
واقعے کے دن کچھ لوگوں نے بتایا کہ جب سدھو موسے والا کو گولی لگنے کے بعد گاڑی سے باہر نکالا گیا تو وہ سانس لے رہے تھے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں گاڑی سے باہر نکالنے میں 10 سے 15 منٹ لگ تھے، اس دوران سدھو موسے والا کی سانسیں چل رہی تھیں۔
قابل ذکر ہے کہ حملے کے دوران سدھو موسے والا کو گنگیسٹروںنے 20 سے 25 گولیاں ماریں، جس کے بعد موسے والا کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا تھا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں