کرشنن کو متحدہ عرب امارات کی سپریم کورٹ نے ایک سوڈانی لڑکے کو قتل کرنے کا مجرم پائے جانے کے بعد موت کی سزا سنائی تھی۔اس کے بعد سے کرشنن کے اہل خانہ اور دوست اس کی رہائی کے لیے کوششیں کر رہے تھے، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے کیونکہ متاثرہ کا خاندان اپنے آبائی ملک سوڈان واپس جا چکا ہے، جس کی وجہ سے وہ اسے معافی دینے پر راضی نہیں کر سکے۔
اس کے بعد کرشنن کے خاندان نے لولو گروپ کے چیئرمین یوسف علی سے رابطہ کیا، جنہوں نے معاملے کے بارے میں دریافت کیا اور تمام فریقین سے بات کی۔لولو گروپ نے ایک بیان میں کہا کہ متاثرہ خاندان بالآخر جنوری 2021 میں کرشنن کو معاف کرنے پر راضی ہو گیا۔ اس کے بعد یوسف علی نے کرشنن کی رہائی کے لیے عدالت میں پانچ لاکھ درہم(تقریبا ایک کروڑ روپے) کا معاوضہ ادا کیا۔
کرشنن کے حوالے سے کہا گیاکہ یہ میرے لیے دوبارہ جنم ہے کیونکہ میں نے بیرونی دنیا کو دیکھنے اور آزاد زندگی گزارنے کی تمام امیدیں ترک کر دی تھیں۔اب میری ایک ہی خواہش ہے کہ اپنے اہل خانہ سے ملنے جانے سے پہلے یوسف علی سے ملاقات کرنے کی ہے ۔
یوسف علی نے کرشنن کی رہائی کے لئے خدا کی سخاوت اور متحدہ عرب امارات کے دور اندیش حکمرانوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کرشنن کی خوشگوار اور پرامن زندگی کی خواہش کی۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں