چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ سنیگدھا سروریہ نے پولیس کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔ پولیس نے زبیر کو پانچ روزہ تحویل میں پوچھ گچھ مکمل ہونے کے بعد عدالت میں پیش کیا اور اسے عدالتی تحویل میں بھیجنے کی استدعا کی۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ زبیر سے مزید تفتیش کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ پولیس کی درخواست کے بعد زبیر نے عدالت میں ضمانت کی درخواست دی۔
وہیں پولیس نے دعویٰ کیا کہ زبیر کو فیکٹ چیک ویب سائٹ آلٹ نیوز کے شریک بانی کے حوالے سے پاکستان اور شام سے غیر ملکی عطیات موصول ہوئے ہیں۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد اس نے اپنے فون کا ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیا ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ان کی وکیل ورندا گروور نے کہا کہ فون کو فارمیٹ کرنا غیر قانونی نہیں ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں