یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہواہے جب افغان خواتین دہائیوں میں اپنے حقوق کی سب سے بڑی واپسی کا مشاہدہ کر رہی ہیں۔ افغان پارلیمنٹ کی سابق ڈپٹی سپیکر فوزیہ کوفی نے کہاہر روز کم از کم ایک یا دو خواتین موقع کی کمی اور ذہنی صحت کے دبا ؤکی وجہ سے خودکشی کرتی ہیں۔ نو سال سے کم عمر کی لڑکیاں نہ صرف معاشی دبا ؤکی وجہ سے فروخت ہوتی ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ ان کے لیے کوئی امید باقی نہیں رہی۔یہ عام بات نہیں ہے اور افغانستان کی خواتین اس کے لائق نہیں ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی سربراہ مشیل بیچلیٹ نے افغان خواتین کی بے روزگاری، ان کے لباس پہننے کے طریقے پر پابندیوں اور بنیادی خدمات تک رسائی میں رکاوٹوں کی مذمت کی۔ طالبان کے اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے خواتین کی ملکیت والے کاروبار بند کر دیئے ہیں۔ بیچلیٹ نے کہا کہ 1.2 ملین لڑکیوں کو اب ثانوی تعلیم تک رسائی حاصل نہیں ہے۔
وہیں ہندوستان نے جمعہ کو افغانستان میں خواتین کو عوامی زندگی سے باہر کرنے کی بڑھتی ہوئی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ جنیوا میں ہندوستان کے مستقل مشن میں ہندوستان کے نائب مستقل نمائندے، سفیر پونیت اگروال نے کہاافغانستان کے قریبی پڑوسی اور دیرینہ ساتھی کے طور پر، ہندوستان کی کوشش ہے کہ ملک میں امن اور استحکام کی واپسی کو یقینی بنایا جائے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں