چنڈی گڑھ: چنڈی گڑھ میں رہنے والے ڈیرہ کے عقیدت مند اشوک کمار اور کچھ دیگر افراد نے دعویٰ کیا ہے کہ جیل میں بند ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ رام رحیم نقلی ہیں۔ اصلی کو راجستھان کے ادے پور سے اغوا کیا گیا ہے۔ ا نہوںنے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ جس میں انہوں نے جیل سے باہر آکر اتر پردیش کے باغپت آشرم میں رہ رہے رام رحیم کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
رام رحیم کے اشارے پہلے جیسے نہیں ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس رام رحیم کے اشارے پہلے جیسے نہیں ہیں۔ درخواست دائر کرنے والے چنڈی گڑھ کے علاوہپنچکولہ اور انبالہ کے رہائشی ہیں۔ انہوں نے ہریانہ حکومت، ہنی پریت اور سرسا ڈیرہ کے منتظم پی آر نین کو فریق بنایا ہے۔ ڈیرہ کے ان عقیدت مندوں کا کہنا تھا کہ انہیں ذرائع سے معلوم ہوا کہ اصلی ڈیرہ سربراہ کو اغوا کرنے کے بعد نقلی کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ اب اس نقلی کو اصلی بنا کر ڈیرے کے تخت پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بابا کو مارنے کا بھی منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
ڈیرہ سربراہ کا قد ایک انچ بڑھا
درخواست میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے جیل سے باہر آنے والے ڈیرہ سربراہ میں کافی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں مبینہ ڈیرہ سربراہ کا ویڈیو جاری کیا، انہیں غور سے دیکھا۔ ڈیرہ سربراہ کا قد ایک انچ بڑھ گیا ہے۔ انگلیوں کی لمبائی اور پاؤں کا سائز بھی بڑھا ہوا ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس کے چہرے اور ہاتھوں میں ماسک لگا ہوا تھا جو بدل گیا۔ پرانے دوستوں کو نہیں پہچان سکا۔ درخواست گزاروں نے کہا کہ ان کے کچھ پرانے دوست چند دن پہلے مبینہ ڈیرہ سربراہ سے ملے تھے۔ جسے وہ پہچان نہ سکے۔ اس سے صاف ہے کہ وہ نقلی ڈیرہ سربراہ ہے۔ انہوں نے اصل کے بارے میں شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سوشل میڈیا پرچھیڑی بحث
رام رحیم کے اصلی اور نقلی ہونے کو لے کر کافی وقت سے سوشل میڈیا پر بھی بحث چل رہی تھی۔ ڈیرہ سچا سودا کے حامیوں کا ایک گروپ دعویٰ کر رہا ہے کہ جیل میں بند ڈیرہ سربراہ فرضی ہے۔ اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ ڈیرہ کے ترجمان جتیندر کمار نے کہا کہ یہ عرضی داخل کرنے والے شرارتی لوگ ڈیرے کے پیروکار نہیں ہو سکتے۔ ڈیرے کے عقیدت مندوں کو گروجی پر پورا بھروسہ ہے۔ شرپسند عناصر کی طرف سے گہری سازش کی جا رہی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں