سونو سود کے والدین چاہتے تھے کہ وہ انجینئر بنیں اس لیے وہ سکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انجینئرنگ کرنے کے لیے ناگپور آ گئے۔ یہاں انہوں نے یشونت راؤ چوہان کالج میں داخلہ لیا۔ کالج کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ سونو سودنے ماڈلنگ میں دلچسپی لینا شروع کر دی اور جہاں کہیں بھی موقع ملتا وہ ماڈلنگ کے لیے پہنچ جاتے تھے۔
الیکٹرانکس میں بی اے کرنے کے بعد سونو نے اپنی والدہ سے اداکاری کرنے کو کہا۔ جب ان کی والدہ نے انکار کر دیا تو سونو نے کہا کہ اسے ڈیڑھ سال کا وقفہ دیں، اگر پھر بھی میرا اداکاری کا کیریئر شروع نہ ہوسکاتو میں اپنے والد کے ساتھ تجارت کا کام کرنا شروع کر دوں گا۔
اس کے بعد سونوسود ممبئی آ گئے۔ یہاں آکرسونو سود نے کئی فلموں کے لئے ٹرائل دیے، لیکن وہ کسی بھی ٹرائل میں کامیاب نہیںہو سکے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ۔اس جہدوجہد کے دوران ایک کمپنی نے ایک دن انہیں جوتوں کے ایک برانڈ کا اشتہار دیا۔ حالانکہ اس اشتہار میں وہ لوگوں کے ایک بڑے ہجوم میں تھے۔
سونو سودہالی ووڈ اسٹار سلویسٹر اسٹالون کافالو کرتے تھے اور انہیں دیکھ کر سونو نے اپنی باڈی بہت اچھی بنالی تھی ۔ سونو سے متاثر ہو کر تمل ہدایت کار بھارتی نے انہیں فلم کالیسگھر میں موقع دیا۔ یہ فلم 1999 میں ریلیز ہوئی تھی لیکن یہ فلم کچھ خاص نہیں کر سکی۔ خاص بات یہ ہے کہ جب یہ سونو نے اس فلم کو سائن کیا اس وقت سونو کو تمل زبان نہیں آتی تھی۔ انہوں نے فلم کی شوٹنگ ڈائیلاگ کو رٹ کر کی تھی اور جب فلم مکمل ہوئی، تب تک سونو نے تمل زبان بھی سیکھ لی تھی۔ اس فلم کے بعد سونو نے تمل کے ساتھ ساتھ تیلگو فلموں میں بھی کام کرنا شروع کیا تھا۔
سونو سود نے بالی ووڈ میں انٹری سال 2002 میں فلم شہید اعظم سے کی تھی۔ اس فلم میں سونو سود کا کردار بھگت سنگھ کا تھا۔مگر یہ فلم ہٹ نہیں ہو سکی تھی لیکن اس فلم میں سونو سود کی اداکاری کو خوب پسند کیا گیا جس کے بعد انہیں بالی ووڈ فلموں کی آفرز ملنے لگیں۔
اس فلم کے بعد سونو منی رتنم کی فلم یووا میں نظر آئے۔ ابھیشیک بچن کے بھائی کا کردار اس فلم میںسونو سود نے ادا کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے فلم عاشق بنایا آپ نے میں کام کیا۔ یہ فلم بھی ہٹ ثابت ہوئی تھی۔ اس کے بعد سونو ٹالی ووڈ اور بالی ووڈ دونوں میں مشہور ہوگئے۔سونو سود جیکی چن کے ساتھ فلم کنگ فو یوگا میں بھی نظر آئے تھے۔ اس فلم میں جیکی چن کے ساتھ ان کے فائٹنگ سین کو کافی پسند کیاگیا۔
فلموں میں زیادہ تر ولن کا کردار ادا کرنے والے سونو سودکو لوگوں نے اصلی ہیرو تب کہنا شروع کیا جب انہوں نے کووڈ19 میں مصیبت اور مشکلات میں پھنسے لوگوں کی مدد کرنا شروع کی تھی۔ انہوں نے ہزاروں لوگوں کو ان کے گھروں تک پہنچنانے میں مدد کی تھی۔
سونو سود نے بہت سے لوگوں کی علاج کروانے میں مدد کی تھی ، غریب گھرانے کی لڑکیوں کی شادیاں کروائیں اس طرح کے کئی نیکی کے کام کئے۔ سونو سودنے یہ سب اس وقت کیا جب کورونا مہا ماری کی وجہ سے پوری دنیا پریشان تھی ۔
کووڈ کے دوران سونو سود نے اس وقت لوگوں کی بہت مدد کی جب ہر کوئی اپنے گھروں کے اندر رہنے کو مجبور تھا ۔ انہوں نے مزدوروں کے لیے کھانے کا بندوبست کیا اور ساتھ ہی ان لوگوں کے لیے بسیں، ٹرینیں اور حتی کہ ہیلی کاپٹر کے ٹکٹ تک بھی فراہم کیے جنہیں واپس اپنے گھر جانا تھا۔
اس دوران انہوں نے ان کے گھر آنے والے ہر شخص کی مدد کی۔ انہوں نے شکتی ساگر سود کے نام سے ایک اسکیم شروع کی تھی ، جس کے تحت روزانہ 45000 لوگوں کو کھانا کھلایا جاتا تھا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں