انہوں نے کہا کہ چار کورسس بی اے، بی ایس سی، (ایم پی سی/بی زیڈ سی)اور بی کام کے ساتھ چار کورسس شرو ع کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کالج میں بنیادی سہولات اور اضافی کلاس رومزکے لیے 3 کروڑ 19 لاکھ کے فنڈز کی منظوری دی گئی ہے، 15لکچرارزکے عہدوں کی بھی منظور ی دی گئی ہے۔سپیکر نے کہا کہ طلبا،ڈگری آن لائن سرویسس تلنگانہ(دوست)کے ذریعہ آن لائن درخواستیں داخل کرسکتے ہیں۔
بانسواڑہ ٹاؤن میں ایک اردو میڈیم ڈگری کالج اس علاقہ کے طلبا کا خواب ہے۔انہوں نے کہا کہ بانسواڑہ اور کوٹگری میں پہلے ہی اردو میڈیم انٹر کالجز موجود ہیں۔ان علاقوں میں اقلیتی رہائشی سکولز بھی کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کو انٹر میڈیٹ کالجز کے طور پر اپ گریڈ کیا گیا ہے۔
جن طلبا نے اپنی انٹر میڈیٹ کی تعلیم مکمل کر لی ہے وہ اپنی تعلیم کو روکنے پر مجبور تھے کیونکہ ڈگری کورسس کی تعلیم کیلئے وہ دور دراز مقامات پر جانے سے قاصر تھے۔نئے اردو ڈگری کالج کے آنے کے بعد طلبا اب اپنی ڈگری کی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ کالج بانسواڑہ کے علاوہ یہ جکل،ایلاریڈی اور کاماریڈی حلقوں کے طلبہ کے لیے بھی کارآمد ہوگا۔انہوں نے طلبا سے گزارش کی کہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ سپیکر نے کہا کہ انہوں نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔اس کالج کے قیام سے ان کو کافی خوشی ہوگی۔ اردو میڈیم ڈگری کالج کی منظوری کے سلسلہ میں انہوں نے اقدامات پر وزیراعلیٰ چندر شیکھر راؤ، عہدیداروں اور دیگر حکام کا شکریہ ادا کیا۔
سپیکر نے کہا کہ کاماریڈی ضلع کو اقلیتی محکمہ کی جانب سے مختلف کاموں کے لیے 5.28 کروڑ روپئے کے فنڈز منظور کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چونکہ فنڈز دستیاب ہیں اس لئے پہلے سے شروع کئے گئے کاموں کو تیزی سے مکمل کیا جا سکتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں