پاکستان کے روزنامہ دی ایکسپریس ٹربیون کی رپورٹ کے مطابق جیسا کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس رواں ماہ کے آخر میں ہونے والا ہے، جس میں پاکستان کے لیے 1.2 بلین امریکی ڈالرز کی اگلی قسط کی باضابطہ منظوری دی جائے گی۔ آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ پاکستان اپنے دوست ممالک کی مالی امداد کے عزم کو یقینی بنائے۔ ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان سے اس بات کی پختہ ضمانت دینے کو کہا ہے کہ اس کے دوست اس کی بیرونی ضروریات کے لیے 4 ارب ڈالر فراہم کرائیں گے۔
ایکسپریس ٹربیون کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ضروری فنڈز فراہم کرانے کے لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین جیسے اہم اتحادیوں سے بات چیت کر رہا ہے۔ جب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اپریل میں سعودی عرب کا دورہ کیا تو وہ خالی ہاتھ واپس آئے کیونکہ ریاض نے انہیں کوئی پختہ یقین دہانی نہیں کروائی تھی۔ متحدہ عرب امارات بھی پاکستان کو بچانے کے لیے آنے سے گریزاں تھا۔ یو اے ای نے قرضہ دینے کے بجائے پاکستان کو شیئرز اور اثاثے خریدنے کی پیشکش کر دی۔ ایکسپریس ٹربیون کی رپورٹ کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی فوج نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں کے حکام سے مالی مدد کے لیے بات کی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں