پیر کو ہماچل پردیش میں مادر وطن کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کرنے والے شہداکے کبوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقد ایک پروگرام میں مسٹر سنگھ نے کہا کہ مسلح افواج دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک نئی حکمت عملی پر کام کر رہی ہیں اور اب دشمن کو اس کے ٹھکانے پر جا کر مارا جا رہا ہے۔ ایک سوچی سمجھی پالیسی کے تحت سرحد پار سے دہشت گردانہ کارروائیاں چلائی جاتی رہی تھیں۔ افواج نے دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی نئی حکمت عملی پر کام کیا۔ ہم نے سرجیکل اسٹرائیک اور بالاکوٹ ایئر اسٹرائیک کرکے دکھائی ہے۔
ہم نے حال ہی میں 1971 کی جنگ میں فتح کی گولڈن جوبلی منائی ہے۔ 1971 کی جنگ تاریخ میں کسی بھی قسم کی جائیداد، حقوق یا طاقت کی بجائے انسانیت کے لیے لڑی جانے والی جنگ کے طور پر یاد رکھی جائے گی ,ایک کسک رہ گئی۔ کاش پی او کے پر فیصلہ اسی وقت ہوگیا ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے کبھی کسی ملک کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش نہیں کی۔ لیکن اگر ہندوستان کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے تو ہم نے منہ توڑ جواب بھی دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان امن پسند ملک ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کسی قابل نہیں ہیں۔ ہندوستان اس عظیم حکمران بھرت سے تحریک لیتا ہے جو منہ میں ہاتھ ڈال کر شیروں کے دانت گنتے تھے۔ آج ہمارے وزیر اعظم اپنے ہاتھ سے تیندوے چھوڑتے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں