کشمیر میں دہشت گردی کو شکست دے رہی موسیقی - شیر پنجاب اردو نیوز About us| Contact US| Privacy Policy| Disclaimer| Terms And Conditions| Sitemap|

Translate

27 ستمبر، 2022

کشمیر میں دہشت گردی کو شکست دے رہی موسیقی

سری نگر: وادی کشمیر میں جہاں دہشت گردی کا راج تھا وہاں اب موسیقی کی مدھر دھنیں سنائی دے رہی ہیں۔ موسیقی تشدد پر اثر ڈال رہی ہے۔ سریلی آوازیں اور خوش کن موسیقی نوجوانوں اور خواتین کو ایک نئے مستقبل کی طرف لے جا رہی ہے۔موسیقی اور کشمیر کا پرانا رشتہ ہے اور آج یہ موسیقی نئے کشمیر کی آواز ہے۔ جب لڑکیاں ہاتھوں میں گٹار لیے چنار کے درختوں کے نیچے بیٹھ کر موسیقی کو چھیڑتی ہیں تو ایک الگ ہی منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔

میوزک ایونٹ کے آرگنائزر عصمت آسائی کے الفاظ میں، جس لمحے آپ اپنی موسیقی سنتے ہیں، آپ پہاڑوں اور وادیوں کی دنیا میں چلے جاتے ہیں۔کشمیر کے لوگ اچبل کو دہشت گردی کے لیے جانتے ہیں۔ یہاں رہنے والی شازیہ بشیر موسیقی کی اس قدر دیوانی ہیں کہ انہوں نے بہت چھوٹی عمر میں ہی پروگراموں میں گانا شروع کر دیا، انہوں نے ڈی ڈی کشیر کے میلے سر میں بھی حصہ لیا۔ 2016 میں انہیں بسم اللہ خان ایوارڈ سے نوازا گیا۔

سری نگر کے ڈان ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے یاور ابدال ایک مختلف قسم کے گلوکار ہیں۔ وہ گانے لکھنے اور خیالی موسیقی بنانے میں گھنٹوں گزاردیتے ہیں۔ وہ نصرت فتح علی خان کی طرح گانا چاہتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ موسیقی کی خاطر انہوں نے نوکری بھی چھوڑ دی۔ 

ان کے دو البمز ہٹ ہو چکے ہیں اور وہ تیسرے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔بانڈی پورہ کا اشفاق کاوا ویٹر کا کام کرنے حیدرآباد گیا تھا۔ قسمت مڑی اور گاہک کے کہنے پر گانا گایا تو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ وہ کشمیری لوک موسیقی کے مشہور گلوکار بن چکے ہیں اور کئی شہروں میں پرفارم کر چکے ہیں۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں