عمران نے مبینہ طور پر پیغمبرمحمد کے خلاف توہین آمیز ریمارکس پر مودی حکومت پر تنقید کی ہے اور خوب اپنی بھڑاس نکالی ہے ۔ عمران نے ٹویٹ کیا، 'بی جے پی کے ترجمان کی طرف سے ہمارے نبی کے خلاف نفرت انگیز ریمارکس کیے گئے، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔
مودی حکومت بھارت میں مسلمانوں کے خلاف جان بوجھ کر نفرت کی پالیسی کو ہوا دے رہی ہے۔ ان کے خلاف تشدد کوبھڑکا رہی ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے انچارج ہندوستانی سفیر کو طلب کرکے معاملے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ دوسری جانب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پیغمبر اسلام کی توہین برداشت نہیں کی جا سکتی۔
تمام مسلمان ان کے لیے اپنی جان دے سکتے ہیں۔ بتادیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) نے ترجمان نوپور شرما کو پیغمبر اسلام کے خلاف مبینہ طور پر توہین آمیز تبصرہ کرنے پر معطل کر دیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی دہلی بی جے پی لیڈر نوین کمار جندل کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ بی جے پی رہنماؤں کے بیان پر مسلم ممالک میں بھارت کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ قطر، کویت، ایران اور پاکستان نے بھارتی سفیر کو طلب کیا۔ پاکستان نے بھارت سے کہا ہے کہ ایسے بیانات افسوسناک ہیں اور برداشت نہیں کیے جا سکتے۔
عمران خان یہیں نہیں رکے۔ ایک اور ٹویٹ میں اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی سے مودی سرکار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کیا ایک مسلمان جو اپنے نبی سے محبت کرتا ہے ان کی توہین سے بڑا درد اور کو ئی نہیں ہو سکتا۔ او آئی سی کو مودی کے بھارت پر سخت کارروائی کرنی چاہئے۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں